گلزار احمد اعظمی: بے قصور محروسین کی آواز بھی اور آسرا بھی (خصوصی انٹرویو)

دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ بے قصور مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی مفت قانونی پیروی کرنے والے گلزار احمد اعظمی سے خصوصی بات چیت۔

گلزار احمد اعظمی
گلزار احمد اعظمی
user

اعظم شہاب

نقارخانے میں طوطی کی آواز نہیں سنی جانے والی کہاوت پر یقین کرنے والے بھی اس حقیقت سے شاید ہی انکار کرسکیں کہ نقارخانہ کے ہنگامۂ روزوشب چاہے جس قدر بڑھ جائیں، طوطی کی آواز کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ آج جبکہ پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف منافرت کا طوفان سا اٹھا ہوا ہے، برسہا برس سے جیلوں میں قید مسلم نوجوانوں کی کربناک صورت حال آنکھیں نمناک کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ان مسلم نوجوانوں کے ماتھے پر دہشت گرد ہونے کا کلنک محض اس لئے چپکا دیا گیا ہے کہ ان کا تعلق اسی ملت بدنصیبہ سے ہے جسے مسلمان کہا جاتا ہے اور جس پر دہشت گردی وملک سے غداری جیسے الزامات کا کاپی رائیٹ تصور کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے الزامات میں جیلوں میں قید ان معصوموں کی گرفتاری سے لے کر جرم قبول کروانے تک اور پھر عدالتوں میں پیشی سے لے کر چارج شیٹ داخل کئے جانے تک کا مرحلہ اس قدر دلدوز ہے کہ اس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ محض شک کی بنیاد پر گرفتار اور پھر متواتر تھرڈ ڈگری کے ٹارچر سے گزرنے کے بعد ان بے قصوروں کے پاس اتنا حوصلہ بھی نہیں رہتا ہے کہ وہ زندگی میں کبھی اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکنے کا تصور کرسکیں، لیکن بھلا ہو جمعیۃ العلماء ہند (ارشد مدنی)کے گلزار احمد اعظمی کا جنہوں نے ان بے سہاروں کے لئے ایک مضبوط سہارا بن کر اٹھے اور نہ صرف سہارا بنے بلکہ ان کی آواز بھی بن گئے۔ مقدمات کی پیروی کے ضمن میں ہم نے ان سے خصوصی بات چیت کی جس کے کچھ حصے یہ یہاں پیش کئے جا رہے ہیں۔

فی الوقت آپ کی جانب سے کتنے مقدمات کی پیروی ہو رہی ہے اور ان کا اسٹیٹس کیا ہے؟

جمعیۃ العلماء (ارشد مدنی) کے لیگل سیل کے ذریعے ہم فی الوقت 550 ملزمین کے مقدمات کی قانونی پیروی کر رہے ہیں۔ ان میں سے 107 ملزمین ایسے ہیں جنہیں ضمانت مل چکی ہے جبکہ 275 ملزمین الزامات سے باعزت بری اور مقدمات سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔ 49 مقدمات ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہیں جبکہ ہائی کورٹ میں 33 اپیلیں سماعت کے مرحلے میں ہیں۔ ہائی کورٹ سے فیصلوں کے بعد 10 اپیلیں سپریم کورٹ میں فلور پر ہیں۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ یہ وہ مقدمات ہیں جو صرف دہشت گردی سے متعلق ہیں جن کے لئے ہمارے وکلاء کا ایک پورا پینل ہے جو ملزمین پر عائد فردِ جرم کی باریک بینی سے مشاہدہ ومطالعے کے بعد عدالت میں اپنا موقف پیش کرتا ہے۔


دہشت گردی کے مقدمات کے علاوہ آپ کا لیگل سیل اور کون کون سے مقدمات کی پیروی کرتا ہے؟

لیگل سیل کے تحت ہم ان تمام مقدمات کی پیروی نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک کرتے ہیں جن کا تعلق مسلمانوں سے ہو یا جن میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ ابھی حال ہی میں مدھیہ پردیش کے کھرگون، گجرات کے احمدآباد اور دہلی کے جہانگیرپوری میں اور ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی بھگوا شرپسندوں کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ لیکن ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پولیس وانتظامیہ کی جانب سے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی جاتی، لیکن بغیر کسی تفتیش کے مسلمانوں کی املاک کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا گیا۔ ہم فوری طور پر اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے جس پر سپریم کورٹ نے اس انہدامی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ ان اپیلوں پر سماعت ابھی جاری ہے۔

ملک کے موجودہ حالات سے آپ کو اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی؟

یقیناً ہوتی ہے۔ دہشت گردی میں ماخوذ مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کے نتیجے میں مجھے مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مجھے تحفظ فراہم کیا گیا ہے لیکن مجھے معلوم ہے کہ یہ تحفظ محض ایک دھوکہ ہے۔ اصل تحفظ تو اللہ رب العزت کا ہے جس کی رضا کے لئے ہم بے قصوروں کی گردنیں چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس راہ میں میری جان چلی جاتی ہے، میرے بعد اور کوئی اللہ کا بندہ کھڑا ہوگا جو اس کام کو آگے بڑھائے گا۔


کہا جاتا ہے کہ آپ کے ذریعے مقدمات کی مفت قانونی پیروی کی جاتی ہے، یہ کیسے ممکن ہو پاتا ہے؟

بالکل ممکن ہے اور ہم کر رہے ہیں۔ دہشت گردی میں جو ملزمین ماخوذ ہیں ان میں سے بیشتر کی مالی حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہے۔ ایسے میں بھلا وہ اپنے مقدمات کی پیروی کس طرح کرسکیں گے؟ جبکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کا عدالتی نظام کتنا خرچیلا ہے۔ ایسے میں ان ملزمین کی مفت قانونی مدد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ ان مقدمات میں جو اخراجات ہوتے ہیں وہ مخیر حضرات پوری کر دیتے ہیں۔

تو کیا مخیرین کی جانب سے ملنے والی امداد ان تمام مقدمات کی پیروی کے لئے کافی ہوتی ہے؟

کورونا کی وبا اورلاک ڈاؤن سے قبل تک کافی ہوا کرتی تھی، لیکن اب مشکل پیش آرہی ہے۔ فی الوقت حالت یہ ہے کہ ہم حسبِ ضرورت بھی نہیں خرچ کر پا رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار بہت بری طرح متاثر ہوئے اس لئے لوگوں کی جانب سے ملنے والی امداد میں بہت کمی آگئی۔ گزشتہ دو برسوں سے بم دھماکہ کیس جن میں پھانسی کی سزا پانے والے65 اور عمرقید کی سزا پانے والے125 / ملزمین ہیں، ان کا مقدمہ التواء کا شکار ہوگیا ہے۔ ان مقدمات کے التواء کی وجہ محض لاک ڈاؤن ہی نہیں بلکہ مخیرحضرات کی جانب سے ملنے والی مدد میں کمی وتاخیر بھی اس کی اہم وجہ ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ جمعیۃ علماء کی جانب سے طلباء کو تعلیمی وظیفے بھی دیئے جاتے ہیں جو گزشتہ سال ہم نہیں دے سکے۔


ملک کے موجودہ حالات کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

پورے میں اس وقت مسلمانوں کے خلاف نفرت و جارحیت شباب پر ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو حکومتی پشت پناہی حاصل ہے۔ اسے اسٹیٹ ٹیریرازم کہا جاتا ہے جو اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ ہندوتواوادی تنظیمیں پورے ملک میں فرقہ پرستی کا برہنہ رقص کر رہی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے انہیں روکنا تو دور اس پر کوئی بیان تک سامنے نہیں آتا ہے۔ لے دے کر اب صرف عدالتیں بچی ہیں جن سے کچھ امید کی جاسکتی ہے، اس لئے ہم بجائے دوسری سمت میں اپنی توانائی صرف کرنے کے عدالتوں سے رجوع ہوتے ہیں۔ ملک میں پھیلائی جا رہی شدت پسندی اور نفرت کی سیاست کے شکار لوگوں کے درد سے ہم بخوبی واقف ہیں اور انہیں ہرممکن مدد فراہم کرنے کے لئے ہم ہمہ وقت تیار ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔