انٹرویو

یو پی ایس سی میں کامیاب ہونے والی بشری تعلیم کے شعبہ میں کچھ کرنے کی خواہاں

یو پی ایس سی میں کامیابی حاصل کرنے والی بشری کا کہنا ہے کہاکہ انہوں نے اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئے رشتہ داروں کی شادیوں سمیت سبھی طرح کی تقریبات سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

آزاد ہندوستان میں پہلی مرتبہ یو پی ایس سی امتحانات میں پچاس سے زیادہ مسلمان کامیاب ہوئے ہیں اور ان کامیاب امیدواروں میں رام نگر (اتراکھنڈ) کی بشری انصاری بھی ہیں جن کے والد انیس احمد فو ریسٹ کارپوریشن میں ڈی ایل ایم ہیں۔ ویسے بشری کی فیملی میں تمام افراد تعلیم یافتہ ہیں ۔ ان کی والدہ نسرین اختر انصاری ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر ہیں، بھائی فیض احمد انصاری ائیر فورس میں تعینات ہیں اور بڑی بہن شہلا جبیں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ بشری جنہوں نے رُڑکی انجینئرنگ کالج سے بی ٹیک کی تعلیم حاصل کی ہے ان کی یو پی ایس سی میں کامیابی پہلی کامیابی نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے وہ پی سی ایس کے امتحان میں 11ویں رینک حاصل کر چکی ہیں اور ایس ڈی ایم کی ٹریننگ لے رہی ہیں ۔ بشری سے ان کی تیاریوں اور مستقبل کے اہداف کے تعلق سے ’قومی آواز‘ نے گفتگو کی ۔ پیش ہیں اس گفتگو کے چند اقتباسات۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
یو پی ایس سی میں کامیاب ہونے والی بشری کے والد انیس احمد اور والدہ نسرین اختر

سوال : یو پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے پر بہت بہت مبارکباد۔ اس کامیابی کے لئے کیسے اور کہاں تیاری کی؟

بشری: میں نے یو پی ایس سی امتحان کی تیاری پوری ایمانداری اور لگن کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی دہلی سے کی۔

آئی اے ایس بننے کا خواب تمہارا اپنا تھا یا والدین کی خواہش تھی کہ تم آئی اے ایس کی تیاری کرو؟

میری اپنی خواہش تو تھی ہی ، لیکن ابو نے اس کے لئے زیادہ کہا تھا اور انہوں نے ہر طرح کا سپورٹ بھی فراہم کیا۔ اسی لئے پی سی ایس کے امتحان میں بھی بیٹھی تھی اور یو پی ایس سی کے امتحان میں بھی کوشش کی۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
یو پی ایس سی میں کامیاب ہونے والی بشری اپنی سہیلیوں کے ساتھ

کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اس میں غلط پھنس گئی ہو، اس میں تو ہر وقت صرف پڑھنا ہی پڑھنا پڑتا ہے؟

کبھی کبھی ایسی فیلنگ تو آتی تھی لیکن جب سامنے ایک ایم (ہدف) نظر آتا تھا تو پھر یہ احساس دور ہو جاتا تھا۔پھر یہ سوچ کر دوبارہ محنت کرنا شروع کر دیتی تھی کہ امتحان بھی تو دینا ہے اور انشااللہ کامیابی بھی حاصل کرنی ہے۔

تیاریوں میں کس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا؟

پریشانیاں بس یہی تھیں کہ کبھی کسی امتحان میں کامیابی نہیں حاصل ہوتی تھی یا کبھی رزلٹ آنے میں تاخیر ہو جاتا تھا تو تھوڑا فرسٹریشن ضرور ہوتا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پڑھنا بہت زیادہ پڑتا تھا۔ بس اسی طرح کی پریشانیاں تھیں۔

پڑھنے کا کیا شیڈیول تھا؟

ویسے تو پورا دن میں لائبریری میں گزارتی تھی اور اس کے لئے لگ بھگ دس گھنٹے روز کی پڑھائی تو ضروری ہی ہے۔

اس کے لئے کیا کیا قربان کرنا پڑا، خاندانی تقریبات اور شادی وغیرہ میں کیا شرکت کرتی تھیں؟

سبھی طرح کی تقریبات چھوڑ رکھی تھیں، کئی رشتہ داروں کے یہاں شادیاں ہوئیں لیکن میں کہیں بھی شریک نہیں ہو پائی۔

آپ نے کس اسٹریم سے تعلیم حاصل کی تھی؟

میں نے رُڑکی کے کالج آف انجینئرنگ سے بی ٹیک کیا ہے۔

جب آئی اے ایس امتحان میں کامیابی کی خبر ملی تو آپ کا پہلا رد عمل کیا تھا؟

رزلٹ دیکھ کر مجھےبے انتہا خوشی ہوئی تھی ، لسٹ میں نام آنے کا ایک الگ ہی احساس ہوتا ہے۔

رزلٹ نیٹ پر اکیلے دیکھا تھا یا گھر والوں کے سا تھ ؟

دراصل میں اس وقت گڑھوال میں ہوں ، میری ایس ڈی ایم کی ٹریننگ چل رہی ہے اس لئے فیملی کے ساتھ رزلٹ تونہیں دیکھا۔ میری ایک دوست کا فون آیا اور اس نے رزلٹ کے بارے میں بتایا ۔ لسٹ میں اپنا نمبر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اچھا لگا کہ جس چیز کی تیاری کر رہی تھی اس میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد گھر پر ڈیڈی کو فون کر کے بتایا کیونکہ انہی کی سب سے زیادہ خواہش تھی۔ چونکہ رینک کم ہے اس لئے یہ ذہن بنا لیا ہے کہ رینک بہتر کرنے کے لئے دوبارہ امتحان دوں گی۔ ابھی میری رینک 752ہے۔

آگے کے لئے کیا پروگرام ہے؟

پہلے تو یہ کہ اترا کھنڈ میں جو ایس ڈی ایم کی ٹریننگ چل رہی ہے اس کو پورا کر لوں۔

اس کامیابی کو نوکری کی طرح لو گی یا مشن کی طرح ؟

نہیں، خالی نوکری تو نہیں۔ اس میں کام کرنے کا اسکوپ بہت ہے، پسماندہ طبقہ کے لئے بہت کام کرنے کے مواقع ہیں۔ ایڈمنسٹریشن کے پاس اتنے حقوق ہوتے ہیں کہ وہ سماج کی حقیقی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایڈمنسٹریشن میں رہ کر ہم تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔

کوئی خاص ایریا جس میں تمہارا کام کرنے کا خواب ہو؟

میرے سلیکشن میں بھی یہی ہے کہ سب سے پہلے تعلیم اس کے بعد ہیلتھ کیئر اور اس کے بعد خواتین و اطفال کے لئے کام کرنا چاہوں گی۔

مسلم سماج میں آئی اے ایس کی جانب کم طلباء جاتے ہیں اور خاص طور سے طالبات ، کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی اس کامیابی سے اگلی نسل کو حوصلہ افزائی ملے گی؟

میں خود کو بہت خوش نصیب محسوس کروں گی اگر میری وجہ سے کچھ بچیوں کو حوصلہ ملے۔بلکہ ایسا ہو رہا ہے کیونکہ میرے گھر کے آس پاس رہنے والی لڑکیاں مجھے فون کر کے پوچھ رہی ہیں آئی اے ایس کی کیسے تیاری کرنی ہوتی ہے اور کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بچیاں اس جانب غور کر رہی ہیں۔

جو بچے ان امتحان کی تیاری کر رہے ہیں ان کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟

لگاتار پڑھیں اور پرھائی میں مستقل مزاجی بنائے رکھیں ۔ اگرکبھی کوئی امتحان کلیئر نہ ہو تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ایسا نہیں کہ انٹرویو کے لئے علیحدہ سے تیاری کر نی ہوتی ہے بلکہ یہ ایک مستقل کا کام ہے اور اس کے لئے حالات حاضرہ پر نظر رکھنی اشدضروری ہے۔ قومی ، عالمی مسائل اور اپنے شوق کی خبروں سے واقفیت رکھنا امتحان میں آپ کے لئے مددگار ثابت ہوگا۔