انٹرویو–بی جے پی آئین کے قتل پر آمادہ، ہم اسے سبق سکھائیں گے: چندر شیکھر آزاد

بھیم آرمی سربراہ چندرشیکھر کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی نوجوانوں کے نام پر اقتدار میں آئے اورسب سے زیادہ انھیں ہی ٹھگنے کا کام کیا۔ پی ایم ملک کے کسی معاملے میں منھ نہیں کھولتے اور نہ ہی ٹوئٹ کرتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

بھاشا سنگھ

اتر پردیش کے سہارنپور سے اپنی یاترا شروع کرنے والے بھیم آرمی لیڈر اور دلت نوجوانوں کے درمیان مشعل راہ بن کر تیزی سے ابھر رہے چندر شیکھر آزاد 2019 میں بی جے پی کو مرکز سے ہٹانے کا نعرہ دے کر اپنے سیاسی عزائم کا اعلان کر چکے ہیں۔ ممبئی-پونے میں جلسہ کرنے کی منظوری نہ ملنے کے باوجود چندرشیکھر کی قیادت میں بڑی تعداد میں پرجوش نوجوانوں کا پہنچنا سماج میں بڑی تبدیلی کی طرف نشاندہی کرتی ہے۔ وہ قومی سطح پر اپنی تنظیم کی توسیع کرنے اور اس کی سیاسی گرفت کا احساس دلانے کے مشن میں مصروف ہو گئے ہیں۔ اسی کے تحت ملک بھر کا دورہ کر وہ ریلیاں اور تقاریب کا انعقاد کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ انتخاب لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ سماجی سطح پر تنظیم کو مضبوط بنائیں گے۔ لیکن سیاسی حلقوں، خصوصاً بی ایس پی اور کانگریس میں چندر شیکھر کو لے کر کھلبلی ہے۔ ’قومی آواز‘ کے لیے بھاشا سنگھ نے چندر شیکھر آزاد سے خصوصی بات چیت کی۔ پیش ہیں اس کے اہم اقتباسات...

ممبئی، پونے اور بھیما-کوریگاؤں... آپ انتظامیہ کی منظوری نہ ملنے کے باوجود اپنے پروگرام کو جاری رکھے ہوئے ہیں، مقصد کیا ہے؟

سیدھی سی بات ہے، یہ ملک کسی کے باپ کا نہیں ہے۔ ہم سب کا ہے۔ بابا صاحب (بھیم راؤ امبیڈکر) نے جو آئین دیا ہے، اسی کے مطابق ہم سب چلیں گے۔ مجھے جس طرح سے ممبئی میں نظر بند رکھا گیا، پونے میں جلسہ کی منظوری نہیں دی گئی، یہ آئین کا قتل ہے۔ یہ قابل برداشت نہیں ہے۔ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی ہے۔ بی جے پی اور اس کی حکومت میں بیٹھے لوگ، چاہے وہ وزیر اعظم نریندر مودی ہوں، یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہوں یا مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس ہوں، سب خود کو آئین سے اوپر مان بیٹھے ہیں۔ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کرسی پر بٹھا سکتی ہے تو اتار بھی سکتی ہے۔ ہم انھیں سبق سکھائیں گے۔

آپ بھیما کوریگاؤں کیوں جانا چاہتے ہیں؟

یہ ہمارے جدوجہد کی علامت ہے۔ یہ ہمارا حق ہے۔ ہمارے سماج نے یہاں آزادی اور برابری کے لیے لڑائی لڑی۔ میں اس جدوجہد کی حمایت میں کھڑا ہوں، کیا یہ میرا حق نہیں ہے؟ کیا وہ ملک کا حصہ نہیں ہے کہ میں وہاں نہیں جا سکتا؟

ملک 2019 انتخابات کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ کیا امکانات نظر آ رہے ہیں؟

مودی حکومت کو جانا ہے، یہ تاناشاہ حکومت ہے۔ انھوں نے ملک کو ساڑھے چار سال میں بری طرح سے لوٹ لیا اور اب کھسکنے کی تیاری میں ہے۔ یہ حکومت دلتوں، پسماندہ طبقات، مسلمانوں کے خلاف کام کر رہی ہے۔ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر اور معزز کانشی رام کا تبدیلیٔ سماج کا جو نشانہ تھا، وہ ہمیں حاصل کرنا ہے اور سماج و سیاست کو وہیں لے جانا ہے۔

آپ لگاتار آئین بچانے، جمہوریت بچانے کی بات کر رہے ہیں، دقت کیا نظر آ رہی ہے؟

ملک میں قانون کی حکومت نہیں رہ گئی۔ آگرہ میں ہمارے طبقہ کی بہن انجلی کو زندہ جلا رہے ہیں، بلند شہر میں پولس افسر کو بھیڑ مار دیتی ہے، سپریم کورٹ کے جج باہر آ کر اپیل کرتے ہیں، آر بی آئی گورنر استعفیٰ دیتے ہیں، سی بی آئی کو برباد کر دیا... ایسا حال کبھی نہیں رہا۔ جمہوریت پر ’راج تنتر‘ حاوی ہے۔ مودی اور یوگی کو جمہوریت پر یقین نہیں۔

آپ لگاتار اقلیتوں کے حقوق کی بات کر رہے ہیں، کیا وہ آپ کے ساتھ آئیں گے؟

میں اپنی بات صاف طریقے سے کہنے والا آدمی ہوں۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ ہم نے پڑھی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ان کی حالت خراب ہے۔ ان کی بڑی آبادی ہے اور وہ ملک کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے، جب کہ بی جے پی-آر ایس ایس انھیں مشتعل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ ان پر حملے بھی سیدھے اور تلخ ہیں۔ اس قدر عدم تحفظ کا تصور ٹھیک نہیں ہے۔ صرف ان کے لیے ہی نہیں، ہمارے آپ کے لیے بھی، ہماری جمہوریت کے لیے بھی۔ لہٰذا ہمیں ساتھ آنا ہی چاہیے۔ یہ فطری بھی ہے۔ گائے کے نام پر انھیں روز مارا جا رہا ہے، نوئیڈا میں پارک میں نماز پڑھانے پر فساد لیکن پھر بھی یہ طبقہ خود کو قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ یہ غلط ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بھیم آرمی کی طرف سے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور دلت-مسلم اتحاد کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

دلتوں کے ساتھ ساتھ سماج میں بڑے پیمانے پر نوجوان میں زبردست بے چینی ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟

آج نوجوانوں کو قیادت دینے کی ضرورت ہے، اقتدار ان کے پاس ہونا چاہیے۔ جو ’پردھان سیوک‘ ہیں وہ تو ملک میں رہتے ہی نہیں۔ وہ ٹورنگ پی ایم ہیں۔ نوجوانوں کے نام پر اقتدار میں آئے اور سب سے زیادہ انھیں ہی ٹھگنے کا کام کیا۔ پی ایم ملک کے کسی معاملے میں منھ نہیں کھولتے اور نہ ہی ٹوئٹ کرتے ہیں۔