زرعی بل، کسانوں سے ان کی آزادی چھین لینے کے مترادف: راکیش ٹکیت

راکیش ٹکیت نے کہا کہ زرعی بل کسانوں سے ان کی آزادی چھین لینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی راہ میں جینے مرنے کا سوال حائل ہو گیا ہے اور یہ بل کسی بھی طرح کسانوں کے حق میں نہیں ہے۔

بھارتیہ کسان یونین کے سربراہ راکیش ٹکیت
بھارتیہ کسان یونین کے سربراہ راکیش ٹکیت
user

آس محمد کیف

پارلیمنٹ سے زرعی بلوں کی منظوری کے بعد سے کسانوں کی ناراضگی عروج پر ہے۔ اترپردیش میں کسانوں کی سب سے بڑی تنظیم بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے قومی آواز سے بات چیت کے دوران دعوی کیا ہے کہ آنے والا وقت کسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ حکومت کے لئے بھی مشکل ہونے جا رہا ہے۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ زرعی بل کسانوں سے ان کی آزادی چھین لینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی راہ میں جینے مرنے کا سوال حائل ہو گیا ہے اور یہ بل کسی بھی طرح کسانوں کے حق میں نہیں ہے۔

زرعی بل کو آسان الفاظ میں سمجھاتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ پہلی چیز تو یہ کہ سامان منڈی کے باہر فروخت کیا جائے گا۔ مظفر نگر میں تاجروں نے اپنی نجی منڈیاں قائم کرلی ہیں، وہ اپنے آفس منڈیوں میں رکھیں گے اور سامان باہر سے خریدیں گے۔ یعنی یکے بعد دیگرے تمام منڈیاں بند ہو جائیں گی۔ ان منڈیوں کی بدولت ہی کسانوں کی پیداوار کی ایم ایس پی پر فروخت ممکن ہو پاتی تھی اور اس کے مال کی حفاظت بھی ہو جاتی تھی۔ اب کسان سڑک پر مال فروخت کرے گا تو اس کا کافی نقصان ہو سکتا ہے۔ منڈی کے باہر پیداوار کی فروخت پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا، تاجر کی مرضی وہ مال لے یا نہ لے۔ اب ایم ایس پی اور منڈیاں دونوں ہی ختم سمجھو۔


بھارتیہ کسان یونین کے بینر تلے غازی آباد میں مظاہرہ کرتے کسان / تصویر یو این آئی
بھارتیہ کسان یونین کے بینر تلے غازی آباد میں مظاہرہ کرتے کسان / تصویر یو این آئی
Md Shafiq

کالا بازری بڑھنے کے سوال پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ کالا بازاری تو پہلے بھی ہوتی تھی۔ تب انتظامیہ اور پولیس افسران نظر رکھتے تھے کہ کون کتنی کالا بازاری کر رہا ہے! اب تو حکومت نے ہی ذخیرہ کرنے کی اجازت فراہم کر دی ہے۔ اب کاروباری کسان سے سارا مال خرید کر اس کا ذخیرہ کر لیں گے اور اگلی بار جب کسان فصل بیچنے آئیں گے تو وہ کہہ دیں گے کہ ہمارے پاس تو پہلے سے ہی مال موجود ہے۔ ایسی صورت میں کسان اپنا مال لے کر کہاں جائے گا؟

زرعی بل، کسانوں سے ان کی آزادی چھین لینے کے مترادف: راکیش ٹکیت
RAMINDER PAL SINGH/EPA

حکومت کے لوگوں کا کہنا ہے کہ باہر کے کاروباری آئیں گے اور بازار کا دائرہ بڑا ہو جائے گا! اس سوال کے جواب میں ٹکیٹ نے کہا کہ باہر سے یہاں کوئی نہیں آنے والا! یہاں گجرات سے کوئی خریدنے نہیں آئے گا، بس نام بدل کر خریداری ہوگی۔ حکومت کو اگر کسانوں کی اتنی ہی فکر ہے تو ایم ایس پی کا قانون بنا دینا چاہیے لیکن وہ ایسا نہیں کرے گی۔


راکیش ٹکیت کا مزید کہنا ہے کہ یہ حکومت کسان مخالف ہے اور یہ ان تین بلوں تک ہی محدود نہیں رہے گی بکہ آنے والے وقت میں پیسٹی سائڈ بل، سیڈ بل اور کنٹریکٹ فارمنگ بل بھی آئیں گے۔ کسان احتجاج کر رہے ہیں بعد میں بھی کرتے رہیں گے۔ وہ اقتدار میں ہیں جو چاہے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پر کسی کے دکھ درد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے کسانوں کی روزی روٹی برباد ہو جائے گی اور ان کا پورا حساب کتاب گڑبڑا جائے گا۔ آنے والے وقت میں کسان اس کا جواب ضرور دیں گے اور حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور ہریانہ کا کسان پوری طرح بربادی کی کگار پر کھڑا ہوا ہے۔ فصل بکنے کا وقت آئے گا تو آنکھیں کھلیں گی، ابھی سب کی آنکھیں بند ہیں لیکن جلد ہی کسان انقلاب آنے والا ہے۔ آج ہر جگہ سے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ کسانوں کو تحریک تیز کرنی پڑے گی۔ کسان جاگ جائیں گے، تو یہ حکومت بھاگتی نظر آئے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Sep 2020, 3:36 PM