’آپ صحافی نہیں چور ہیں، سبھی سے پلتزر ایوارڈ واپس لینا چاہیے‘

امریکی صدر ٹرمپ اکثر میڈیا کے خلاف متنازعہ بیان دیتے رہتے ہیں۔ ایک بار پھر انھوں نے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صحافی نہیں بلکہ چور ہیں اور ان سے پلتزر ایوارڈ واپس لیا جانا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
user

قومی آوازبیورو

میڈیا سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ناراضگی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کئی بار وہ میڈیا سے متعلق بیانوں کو لے کر سرخیوں میں بھی رہے ہیں۔ کورونا بحران سے پریشان امریکی صدر کی ناراضگی اس وقت میڈیا سے کچھ زیادہ ہی بڑھی ہوئی معلوم ہو رہی ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ میڈیا امریکہ میں صحت خدمات کی بدحالی کا ایشو پورے زور و شور سے اٹھا رہا ہے، لہٰذا اس بار ٹرمپ کے نشانے پر اب وہ اخبارات ہیں جنھوں نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ ملی بھگت کی خبروں کے لیے پلتزر ایوارڈ جیتا تھا۔

بہر حال، تازہ معاملہ جمعرات کا ہے جب وہائٹ ہاؤس کے اوول دفتر میں ڈونالڈ ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے خطاب کیا تھا۔ اس دوران انھوں نے ایک بار پھر میڈیا پر اپنا غصہ ظاہر کیا اور نامہ نگاروں سے کہا کہ "وہ صحافی نہیں ہیں، چور ہیں۔ وہ سبھی صحافی جنھیں ہم پلتزر ایوارڈ کے ساتھ دیکھتے ہیں، ان سبھی صحافیوں کو ایوارڈ لوٹانے کے لیے مجبور کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ سبھی غلط تھے۔" ٹرمپ نے کہا کہ "آپ نے دیکھا، اس سلسلے میں جو مزید دستاویز حاصل ہوئے ہیں، ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روس کے ساتھ کسی بھی طرح کی ملی بھگت نہیں تھی۔ پلتزر ایوارڈ لوٹائے جانے چاہئیں، کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ وہ غلط کام کے لیے دیئے گئے کیونکہ وہ سب فرضی خبریں تھیں۔"


ٹرمپ نے روس کے ساتھ ملی بھگت کی خبروں کو پوری طرح جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ اخباروں کو جھوٹ پھیلانے کے لیے ایوارڈ دیئے گئے ہیں۔ سبھی پلتزر ایوارڈ لوٹائے جانے چاہئیں۔ پلتزر کمیٹی، یا جو بھی یہ ایوارڈ دیتا ہے، اسے دھیان دینا چاہیے کہ آخر کس طرح فرضی خبروں کے لیے کسی کو اعزاز بخشا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کو ایسے سبھی لوگوں سے فوراً ایوارڈ واپس لینا چاہیے جنھوں نے بغیر دلائل کے خبریں تیار کیں اور جھوٹ پھیلایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔