اومیکرون کے پھیلاؤ کے درمیان عالمی ادارہ صحت کا انتباہ، ’ویکسین کی جمع خوری سے وبا کے دیر تک رہنے کا خطرہ‘

اقوام متحدہ کے اہل صحت ایجنسی پینل نے کہا ہے کہ موجودہ ویکسین کے نئے ویرینٹ کے خلاف اثرات کے لیباریٹری ڈیٹا بلا شبہ مفید ہیں لیکن تاحال یہ صاف نہیں ہے کہ سنگین مریضوں کے لئے یہ کتنی کارگر ہے

عالمی ادارہ صحت / آئی اے این ایس
عالمی ادارہ صحت / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نیویارک: کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ہیلتھ ایجنسی پینل نے کہا ہے کہ موجودہ ویکسین کے نئے ویرینٹ کے خلاف اثرات کے لیباریٹری ڈیٹا بلا شبہ مفید ہیں لیکن تاحال یہ صاف نہیں ہے کہ سنگین مریضوں کے لئے یہ کتنی کارگر ہے۔ یہ بیان عالمی ادارہ صحت کی اس یقین دہانی کے بعد آیا ہے کہ موجودہ دستیاب ٹیکے کورونا وائرس کے شدید متاثرہ افراد کو چھ مہینے یا اس سے زیادہ وقت تک بچا کر رکھتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈیپارٹمنٹ آف امیونائیزیشن، ویکسینز اینڈ بائیولالیجیکلز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کیٹ اوبرائن نے کہا، ’’نیوٹرلائیزیشن ڈیٹا بلاشبہ ایک بنیاد ہے لیکن حقیقت میں کلینیکل ڈیٹا ہی اس ضمن میں موثر ثابت ہو سکتا ہے کہ اومیکرون کی صورت حال کو کس طرح قابو کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت دستیاب ویکسین اور اس کی افادیت کے سبب مجموعی قوت مدافعت جزوی طور پر بہتر رہی لیکن اس سطح پر کارگر ثابت نہیں ہو پا رہی جہاں عوامی قوت مدافعت کے مفروضہ کو حاصل کیا جا سکے۔


یو این نیوز نے ڈاکٹر اوبرائن کے حوالہ سے کہا، ’’یہ عام طور پر کم از کم ایک ویکسین کی کمی کے سبب ہے، اس کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں تو ٹیکہ کاری مہم کامیاب ہو رہی ہے لیکن غریب ممالک زندگی کی حفاظت کرنے والے ٹیکوں کی کمی سے جدوجہد کر رہے ہیں۔۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کورونا ویکسین کی جمع خوری سے وبا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدیدار نے کہا کہ ویکسین کے بڑھتے دائرے کے درمیان پہلے ہی ٹیکہ لگوا چکے لوگوں میں مبینہ بریک آؤٹ انفیکشن کوئی حیران کرنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ویکسین کام نہیں کر رہی۔ اومیکرون کے حوالہ سے ڈاکٹر اوبرائن نے کہا کہ ان لوگوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے جنہوں نے ٹیکہ کاری نہیں کرائی۔ کورونا وائرس سے متاثرہ ہونے والوں میں 80 سے 90 فیصد ایسے ہی لوگ ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔