امریکہ پیچھے ہٹے گا یا جنگ کو نیا رخ دے گا؟ چند گھنٹوں میں تصویر صاف، قوم سے خطاب کریں گے ٹرمپ
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ کی طرف سے امریکی صدر کے خطاب کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے پہلے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکی افواج 2-3 ہفتوں میں باہر آسکتی ہیں۔

کیا 24 گھنٹوں کے اندر امریکہ ایران جنگ ختم ہونے والی ہے؟ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ اس تنازع کے حوالے سے کوئی بڑا اعلان کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے حوالے سے قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ بدھ کی رات 9 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6:30 بجے) قوم سے خطاب کریں گے اور موجودہ صورتحال پراہم معلومات فراہم کریں گے۔ یہ خطاب ایسے وقت میں ہونے جارہا ہے جب صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکی افواج آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل سکتی ہیں جس سے جنگ کے ممکنہ اختتام کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
بتادیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے لیے ٹرمپ کی طرف سے پیش کئے گئے جواز بیشترحلقوں سے مسترد کردیئے گئے ہیں وہیں حالیہ دنوں میں اس تنازعے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی اور امریکہ میں ہوش رُبا مہنگائی کے خلاف عوام سخت ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر اترکر مظاہرے کرنے لگے ہیں۔
اس دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے قوم سے خطاب کریں گے اور ایران کی صورتحال پر اہم پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کی طرف سے اس خطاب کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے پہلے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکی افواج 2-3 ہفتوں میں باہر آسکتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ امریکہ نے اپنا ہدف یعنی ایران کے جوہری پروگرام کو روکتا، پہلے ہی حاصل کرلیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کئی روز سے ٹرمپ انتظامیہ ایران کے اندرامریکی فوجیوں کو بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔ اس مشن کا مقصد ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو محفوظ کرنا ہو سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ آپریشن کچھ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے اور اس میں خصوصی تربیت یافتہ کمانڈو دستے شامل ہوں گے جنہیں ریڈیو ایکٹیو مواد نکالنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مل کر یکطرفہ طور پر ایران پر حملہ کیا تھا لیکن اب دونوں جانب سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔ جہاں ٹرمپ یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ کسی بھی قیمت پر جنگ سے دستبردار ہو جائیں گے، اسرائیل تنازع کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل تہران کے خلاف اپنی فوجی مہم تیز کرے گا۔ اگر ٹرمپ 2-3 ہفتوں کے اندر فوجی مہم ختم کر دیتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے کہا ہے، اسرائیل اکیلا پڑسکتا ہے۔
اس جنگ کے اثرات اب عالمی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں جبکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں جس کے باعث مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس تنازع میں اب تک 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی فوج کے 13 اہلکار ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔