انڈونیشیا کے کئی بڑے شہروں میں سڑک پر کیوں جمع ہو گئی بھیڑ؟ عوام پولیس سے جنگ پر آمادہ!
انڈونیشیا کے صدر پربووو سبیانتو نے ٹیلی ویژن پر ملک کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلیوری رائیڈر کی موت سے متعلق حادثہ کی جانچ ہوگی اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

انڈونیشیا کی عوام اپنی حکومت اور پولیس انتظامیہ سے سخت ناراض دکھائی دے رہی ہے۔ جمعہ کے روز تو انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ سمیت کئی بڑے شہروں میں عوام اور پولیس آمنے سامنے دکھائی دیے۔ درجنوں افراد اس مظاہرے میں زخمی ہوئے ہیں اور جکارتہ میں تو ایک شخص کی ہلاکت سے متعلق خبر بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ لوگوں کو اس بارے میں پتہ بھی نہیں ہے کہ آخری جکارتہ اور دیگر شہروں میں سڑک پر نکل کر ناراض بھیڑ پولیس سے جنگ پر کیوں آمادہ ہے۔
دراصل ہفتہ بھر قبل یہ انکشاف ہوا تھا کہ انڈونیشیا کے 580 اراکین پارلیمنٹ کو تنخواہ کے علاوہ ہر ماہ 50 لاکھ روپیہ (تقریباً 3075 ڈالر) مکان بھتہ کی شکل میں مل رہے ہیں۔ یہ رقم راجدھانی کی کم از کم تنخواہ سے 10 گنا زیادہ ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آزما عوام کے لیے یہ شاہی بھتہ آگ میں گھی ڈالنے جیسا ثابت ہوا۔ اس کے بعد سے جگہ جگہ حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ گزشتہ جمعرات (28 اگست) کو اسی مظاہرہ کے دوران ایک ڈیلیوری رائیڈر کو پولیس کی گاڑی نے کچل دیا، جس نے مظاہرہ کو شدت عطا کر دی۔ ڈیلیوری رائیڈر کا نام عفان بتایا جا رہا ہے۔ جمعہ (29 اگست) کے روز عفان کی موت سے ناراض عوام بڑی تعداد میں سڑک پر نکل گئی اور پولیس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وہ ویڈیو وائرل بھی ہو رہی ہے، جس میں پولیس کی بکتر بند گاڑی ایک ڈیلیوری رائیڈر کو کچلتی ہوئی گزر جاتی ہے۔
انڈونیشیا کے صدر پربووو سبیانتو نے بے قابو حالات کو دیکھتے ہوئے ٹیلی ویژن پر ملک کے نام خطاب کیا جس میں ڈیلیوری رائیڈر کی موت سے متعلق حادثہ کی جانچ کا وعدہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس حادثہ کی جانچ ہوگی اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ فی الحال پولیس موبائل بریگیڈ کے 7 افسران کو پوچھ تاچھ کے لیے پکڑا گیا ہے، حالانکہ اس گاڑی کے ڈرائیور کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 سالہ عفان کرنیاوان جمعرات کو کھانا ڈیلیور کرنے نکلے تھے، لیکن تصادم کے درمیان وہ اچانک پولیس کی گاڑی کے نیچے آ گئے۔ حادثہ کے وقت موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ گاڑی بھیڑ کو چیرتی ہوئی نکلی اور بغیر رکے عفان کو روند کر چلی گئی۔ ویڈیو سامنے آتے ہی پورے ملک میں ناراضگی کی شدید لہر دوڑ گئی۔
اس واقعہ کے خلاف جمعہ کے روز ہزاروں مظاہرین جکارتہ میں پولیس موبائل بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہو گئے۔ کچھ لوگ اندر گھسنے کی کوشش کرنے لگے۔ پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس کا جواب بھیڑ نے پتھروں، بوتلوں اور فلیئر پھینک کر دیا۔ کویتانگ علاقہ میں مظاہرین نے ایک 5 منزلہ عمارت میں آگ لگا دی۔ کئی لوگ اندر پھنس گئے، حالانکہ اسی بھیڑ میں موجود کچھ طلبا نے احتجاج روک کر فوج اور مقامی لوگوں کےس اتھ مل کر پھنسے لوگوں کو بچایا۔
بتایا جا رہا ہے کہ سرابایا، یوگیاکرتہ، میدان، مکاسّر، مناڈو، بانڈُنگ اور پاپوا تک یہ آگ پھیل گئی ہے۔ جگہ جگہ سگنل توڑے گئے، سڑکیں بند ہو گئیں اور ٹریفک گھنٹوں ٹھپ رہا۔ عفان کے جنازے میں بھی ہزاروں لوگ شامل ہوئے۔ موٹر سائیکل ڈرائیورس سے لے کر حقوق انسانی کارکنان اور سیاسی لیڈران تک نے اسے خراج عقیدت پیش کی۔ وہ وقت ایسا تھا جب راجدھانی کی اہم سڑکیں بھیڑ سے پوری طرح بھر گئی تھیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔