ٹرمپ آخر کیوں بار بار ثالثی کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں؟

ٹرمپ نے صرف ثالثی کی پیشکش ہی نہیں کی ہے بلکہ انہوں نے ابھی تک وزیر اعظم نریندر مودی سے تین ماہ میں تین مرتبہ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے دو مرتبہ ملاقات کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد امریک صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کشمیر مدے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنے کی پیش کش کی ہے۔ 5 اگست کو جب ہندوستانی حکومت نے کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر دیا تھا اس کے بعد سے امریکی صدر کی کشمیر مدے پر ثالثی کی یہ تیسری مرتبہ پیشکش ہے۔ ٹرمپ نے اس تعلق سے صرف ثالثی کی پیشکش ہی نہیں کی ہے بلکہ انہوں نے ابھی تک وزیر اعظم نریندر مودی سے تین ماہ میں تین مرتبہ ملاقات کی ہے اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے بھی دو مرتبہ ملاقات کی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے عمران خان سے ملاقات کے بعد کہا کہ ’’میں ایک اچھا ثالث ہوں۔ اگر دوسری جانب سے رضامندی کا اظہار ہو تو میں ثالثی کرنے کو تیار ہوں۔ میرے عمران خان اور نریندر مودی دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ میں اچھا ثالث ثابت ہو سکتا ہوں‘‘۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہندوستان نے ٹرمپ کی ایسی ہر پیشکش کو ٹھکرایا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ کشمیر مسئلہ پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہے، کشمیر ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ ہندوستان کے اتنے واضح جواب کے بعد بھی امریکی صدر ٹرمپ ثالثی کی بات کیوں دہرا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان امریکہ سے مستقل درخواست کر رہے ہوں کہ وہ کشمیر کے معاملہ میں ثالثی کریں اور امریکی صدر ٹرمپ یہ دکھانا چاہتے ہوں کہ وہ تو ثالثی اور بات چیت کے لئے تیار ہیں لیکن اس کے لئے ہندوستان کا راضی ہونا ضروری ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو کیا اس بات کا بھی خوف ہے کہ کہیں ان کے اور مودی کے قریبی رشتہ انتخابی مدا نہ بن جائیں اور امریکہ کے آزاد خیال لوگ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امریکی مسلمان کہیں انتخابات میں ان کے خلاف نہ ہو جائیں۔ ٹرمپ کی کوشش یہ ہے کہ وہ اس مدے میں الجھے بغیر سبھی فریقین کے اچھے بنے رہیں، اسی لئے وہ یہ بار بار دہراتے رہتے ہیں کہ وہ ثالثی کے لئے تیار ہیں لیکن اس کے لئے ہندوستان کا راضی ہونا ضروری ہے۔

Published: 24 Sep 2019, 7:10 PM