افغانستان کو طالبستان نہیں بننے دیں گے، امر اللہ صالح کا اعلان

امراللہ صالح نے کہا کہ پنج شیر کے عوام طالبان کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں، ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں، ہم علاقہ میں امن چاہتے ہیں لیکن اگر طالبان جنگ پر آمادہ ہیں تو ہم جنگ کے لئے تیار ہیں۔

امر اللہ صالح
امر اللہ صالح
user

قومی آوازبیورو

کابل: افغانستان کے خود ساختہ کارگزار صدر امر اللہ صالح نے کہا ہے کہ وہ طالبان سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے تیار ہیں اور افغانستان کو وہ کبھی بھی طالباستان بننے نہیں دیں گے۔ امر اللہ نے یہ بیان ایک ہندوستانی نیوز چینل سے بات چیت کے دوران دیا۔

امر اللہ صالح نے کہا کہ طالبان کا یہ دعویٰ سراسر غلط ہے کہ اس نے پنج شیر کے علاقہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنج شیر کا علاقہ پوری طرح ناردرن الائنز کے قبضہ میں ہے اور یہاں کے لوگ پر جوش ہیں۔


امراللہ صالح نے کہا کہ پنج شیر کے عوام طالبان کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہم ہر طرح کی بات چیت کے لئے تیار ہیں، ہم اپنے علاقہ میں امن چاہتے ہیں لیکن اگر طالبان جنگ پر آمادہ ہیں تو ہم جنگ کے لئے بھی تیار ہیں۔

امر اللہ صالح نے کہا کہ احمد مسعود اس وقت اپنے والد کی طرح طالبان کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، ہر کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ میں بھی یہاں موجود ہوں، ہر کوئی یہاں متحد ہے۔ ہم نے سب کچھ طالبان کے اوپر چھوڑ دیا ہے، اگر وہ جنگ چاہیں گے تو جنگ ہوگی اور اگر وہ بات چیت چاہیں گے تو پرامن طریقہ سے بات چیت ہوگی۔


مقامی حالات اور مستقبل کے حوالہ سے امراللہ صالح نے کہا کہ موجودہ صورت حال بہت عجیب و غریب ہے، کیونکہ صدر سمیت پوری کابینہ ملک چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ صدر اشرف غنی نے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے لیکن ہمارا مقصد صرف ایک ہے کہ ہم کسی طرح کی آمریت کو قبول نہیں کریں گے۔

امراللہ صالح نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع ملے، ہم افغانستان کو طالبستان نہیں بننے دینا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغان عوام کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے، یہ سب تاناشاہی سے نہیں ہو سکتا۔


خیال رہے کہ امر اللہ صالح فی الحال پنج شیر میں موجود ہیں اور وہ احمد مسعود کی قیادت میں ناردرن الائنز کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد امر اللہ صالح نے خود کو کارگزار صدر قرار دے دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔