ایرانی عوام کے خلاف تمام جرائم اور دباؤ کا ذمہ دار واشنگٹن اور وائٹ ہاؤس: حسن روحانی

روحانی نے کہا ’’انھوں (امریکیوں) نے غیر منصفانہ، غیر قانونی اور غیر انسانی پابندیاں عاید کر کے ادویہ اور خوراک کی خریداری پر بھی قدغنیں عاید کر دی ہیں‘‘

 ایرانی عوام کے خلاف تمام جرائم اور دباؤ کا ذمہ دار واشنگٹن اور وائٹ ہاؤس: حسن روحانی
ایرانی عوام کے خلاف تمام جرائم اور دباؤ کا ذمہ دار واشنگٹن اور وائٹ ہاؤس: حسن روحانی
user

قومی آوازبیورو

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ لوگوں کو ملک کو درپیش ’’دباؤ اور جرائم‘‘ کا امریکہ کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے۔ انھوں نے ہفتے کے روز ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ’’انھوں (امریکیوں) نے غیر منصفانہ، غیر قانونی اور غیر انسانی پابندیاں عاید کرکے ادویہ اور خوراک کی خریداری پر بھی قدغنیں عاید کر دی ہیں۔‘‘

امریکہ نے ایران میں انسانی جان بچانے والی ادویہ اور خوراک کی ترسیل کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے رکھا ہے لیکن بہت سی کمپنیاں امریکی قدغنوں کی زد میں آنے کے خوف سے ایران کے ساتھ کاروباری لین دین کو تیار نہیں اور اس وجہ سے اس کو ادویہ اور خوراک کی بعض اشیاء مہیا نہیں ہورہی ہیں۔

صدر روحانی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پیارے ایرانی عوام کے خلاف تمام جرائم اور دباؤ کا ذمے دار واشنگٹن ڈی سی اور وائٹ ہاؤس ہے۔‘‘ انھوں نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو بالخصوص تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ’’جو شریف آدمی خود کو امریکی وزیرخارجہ کہلواتا ہے ، وہ دراصل وزیرِ جرائم ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے اور انھوں نے اس کے بعد ایران کے خلاف پے درپے سخت اقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں جس کے نتیجے میں اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ایرانی عوام گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اسی ہفتے ایران کی وزارت دفاع سمیت بعض اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔امریکہ کی یہ نئی پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے اور اس کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ان کا مؤقف ہے کہ ان کی پابندیوں کا ہدف تو دراصل ایرانی نظام ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے امریکہ کے ایماء پر ایران کے خلاف جوہری پروگرام کے تعلق سے نئی پابندیاں عاید کرنے سے انکار کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد امریکہ کے پاس ایران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے 23 ستمبر کو ایران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کے لیے عالمی ادارے کو ایک خط لکھا تھا۔ یہ خط ہفتے کے روز پریس کو جاری کیا گیا ہے۔اس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ سے تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ قرارداد نمبر 1737 (2006) کے تحت ازسرنو جائزہ کمیٹی کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ یہ کمیٹی اور ماہرین کا پینل بین الاقوامی پابندیوں کی پاسداری کی نگرانی کریں گے۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)

    next