واشنگٹن حملہ: خصوصی تارکین وطن کے ویزے معطل

واشنگٹن میں ایک افغان شہری کے نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں پر حملہ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کے لیے ویزا پروسیسنگ معطل کر دی ہیں اور خصوصی ویزا پروگرام پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں

<div class="paragraphs"><p>واشنگٹن کا وہ مقام جہاں حملہ کیا گیا / Getty Images</p></div>
i
user

مدیحہ فصیح

افغانستان میں سی آئی اے کی حمایت یافتہ یونٹوں میں سے ایک کے سابق رکن نے 26 نومبر کو واشنگٹن میں امریکی نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو گولی مار دی ۔ ان میں سے ایک کی بعد میں موت ہو گئی۔ یہ حملہ دوپہر 2 بجکر 15 منٹ پر ایک مصروف ٹرانزٹ سینٹر اور وائٹ ہاؤس کے قریب فارراگٹ اسکوائر میں رونما ہوا۔ اس حملہ کے بعد، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں اپنے سفارت کاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ افغان شہریوں کے لیے ویزوں کی پروسیسنگ بند کر دیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ایک کیبل کے مطابق، افغانستان میں 20 سالہ طویل جنگ کے دوران امریکہ کی مدد کرنے والے افغانوں کے لیے خصوصی امیگریشن ویزا پروگرام کو معطل کر دیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، کیبل میں افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ افغان شہریوں کی جانب سے کسی بھی تارکین وطن یا غیر تارکین وطن ویزا کی درخواستوں کو مسترد کر دیں جن میں ’خصوصی تارکین وطن‘ ویزوں کے لیے درخواست دہندگان بھی شامل ہیں۔

خصوصی امیگرنٹ ویزے پر روک

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی طرف سے 28 نومبر کو 'ایکس' پر ایک بیان میں کہا گیا کہ "تمام افراد" جو افغان پاسپورٹ پر سفر کر رہے ہیں ان کے ویزا کا اجراء "روک دیا جائے گا۔" کیبل کی اطلاع پہلے نیویارک ٹائمز نے دی تھی، اس میں کہا گیا تھا کہ افغان شہریوں کے لیے ویزوں کی پروسیسنگ روکنے کے اقدام کا مقصد "امریکی قانون کے تحت درخواست گزار کی شناخت اور ویزا کے لیے اہلیت کو یقینی بنانا ہے۔‘‘ تاہم، امریکہ میں قائم افغان اتحادیوں کی مدد کرنے والے ایک رضاکار گروپ ’افغان ایویک‘ نے کہا کہ یہ کیبل ٹرمپ انتظامیہ کی اس کوشش کا حصہ ہے، جس سے تمام افغانوں کو امریکہ آنے سے روکا جائے۔ افغان ایویک کے صدر، شان وان ڈائیور نے ایک ای میل میں کہا ، "اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ وہی نتیجہ ہے جس کی طرف وہ کئی مہینوں سے گامزن رہے ہیں۔‘‘

کیبل کے مطابق، افغان درخواست دہندگان کے لیے پہلے سے طے شدہ ملاقاتیں منسوخ نہیں کی جائیں گی۔ لیکن جب ایسا ہوگا تو افسران کو درخواست دہندگان کو ویزا دینے سے انکار کر دینا چاہیے۔ علاوہ ازیں،امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز نے اس ہفتے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں پر کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے روک دی تھی۔ وین ڈائیور نے رائٹرز کو بتایا کہ تقریباً 2 لاکھ افغان مہاجرین اور خصوصی ویزا پروگراموں کے ذریعے 2021 تک امریکہ میں داخل ہوئے ہیں۔ امریکہ سے باہر مزید 2 لاکھ 65 ہزار افغانوں کے لیے درخواستوں پر کارروائی جاری تھی، جن میں امریکی حکومت کے لیے کام کرنے والوں کے لیے خصوصی امیگرنٹ ویزا پائپ لائن میں تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار شامل ہیں۔ جنوری میں صدارت میں واپس آنے کے بعد سے، ٹرمپ نے جارحانہ طور پر امیگریشن کے نفاذ کو ترجیح دی ہے، وفاقی ایجنٹوں کو امریکہ کے بڑے شہروں میں بھیجا ہے اور امریکہ-میکسیکو سرحد پر پناہ کے متلاشیوں کو واپس کیا ہے۔ 26 نومبر کے حملے نے صدر ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ :فائرنگ دہشت گردی کا عمل

ایک افغان شہری کو 26 نومبر کی فائرنگ میں مشتبہ نامزد کیا گیا ہے۔ اس فائرنگ میں ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کی ایک رکن، 20 سالہ سارہ بیکسٹروم کی موت ہو گئی ہے جبکہ ایک اور اہلکار کی حالت تشویشناک ہے۔ فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے ہوئی ہے جو حکام کے مطابق، 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔ مشتبہ شخص کو بھی زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے مطابق، رحمان اللہ اس سے قبل سی آئی اے کے ساتھ افغانستان میں کام کر چکا ہے۔


صدر ٹرمپ نے فائرنگ کو ایک "دہشت گردی کا عمل" قرار دیا اور افغانستان سے ہر اس شخص کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا جو صدر بائیڈن کے دور میں امریکہ آیا تھا۔ انہوں نے تنقید کی کہ ان کے پیشرو کے دور میں امریکہ میں لاکھوں "نامعلوم اور غیر جانچ شدہ غیر ملکی" داخل ہوئے ۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ حملے کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں تاہم فائرنگ کو دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بائڈن کا ’آپریشن الائیس ویلکم‘ پروگرام

ہوم لینڈ سیکورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے بتایا کہ مشتبہ رحمان اللہ 8 ستمبر 2021 کو "آپریشن الائیس ویلکم" نامی پروگرام کے تحت امریکہ پہنچا۔ حکام نے سی این این کو بتایا کہ اسے 2024 میں درخواست دینے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال کے شروع میں سیاسی پناہ دی ۔اگست 2021 میں، اس وقت کے امریکی صدر بائیڈن نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد کمزور افغانوں کی حفاظت کے لیے "آپریشن الائیس ویلکم" یا ’اتحادیوں کا خیرمقدم‘ پروگرام شروع کیا تھا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، آپریشن اتحادیوں کا خیر مقدم اور اس کی جگہ لینے والے پروگرام، جسے "اینڈیورنگ ویلکم"کے نام سے جانا جاتا ہے، دونوں کے تحت ایک لاکھ 90 ہزار سے زیادہ افغانوں کو امریکہ میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق، اس پروگرام کے تحت آنے والے زیادہ تر افغانوں کو مستقل امیگریشن کی حیثیت کے بغیر دو سال تک امریکہ میں داخل ہونے اور رہنے کی اجازت دی گئی۔ ان میں سے 40 فیصد سے زیادہ اسپیشل امیگرنٹ ویزا (ایس آئی وی) کے اہل تھے کیونکہ انہوں نے امریکہ کی مدد کے لیے بہت زیادہ خطرہ مول لیا تھا، یا کسی ایسے شخص سے تعلق رکھتے تھے جس نے ایسا کیا۔ ریٹکلف نے فاکس نیوز کو بتایا کہ "بائیڈن انتظامیہ نے ستمبر 2021 میں مبینہ شوٹر کو قندھار میں ایک پارٹنر فورس کے رکن کے طور پر امریکی حکومت بشمول سی آئی اے کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے امریکہ لانے کا جواز پیش کیا۔"

حملہ آور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کا شکار

قانون نافذ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ رحمان اللہ کے اہل خانہ نے حکام کو بتایا ہے کہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کا شکار ہے، جس کی وجہ افغانستان میں ہونے والی لڑائی تھی، جہاں وہ افغان اسپیشل فورسز کے سی آئی اے کے زیر اہتمام اور تربیت یافتہ "زیرو یونٹ" میں لڑا تھا۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کاروں نے رحمان اللہ کی اہلیہ، اس کے پانچ بچوں اور دیگر سے انٹرویوز کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا الزام ہے کہ رحمن اللہ کی ان کے پیشرو بائڈن نے ناکافی جانچ کی تھی، لیکن سینئر امریکی حکام کے مطابق، رحمان اللہ کو سی آئی اے کے ساتھ کام کرنے کے لیے وسیع جانچ پڑتال سے گزرنا پڑا ہوگا۔ اس نے 2011 کے آس پاس سی آئی اے کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور اس وقت ایجنسی نے متعدد ڈیٹا بیسز کے ذریعے اس کی جانچ کی ہوگی - بشمول نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر ڈیٹا بیس - یہ تعین کرنے کے لیے کہ آیا اس کے دہشت گرد گروپوں سے کوئی تعلق تو نہیں۔


صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے دعوے کے برعکس،ایک دہائی قبل ’ آپریشن اتحادیوں کاخیر مقدم‘ کے تحت امریکہ میں داخل ہونے والے افغانوں کی وسیع جانچ پڑتال جاری رہی ہے۔ ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ رحمان اللہ کی مسلسل، سالانہ جانچ پڑتال کی گئی ہوگی، خاص طور پر پچھلے سال اوکلاہوما میں انتخابات سے قبل ناکام دہشت گردی کی سازش کے تناظر میں، جس میں ایک افغان تارک شامل تھا۔ پھر، رحمان اللہ کی پناہ کی درخواست پر کارروائی کرنے کے لیے بھی امیگریشن حکام نے اس سال کے شروع میں اس کے پس منظر کا جائزہ لیا ہوگا۔

رحمن اللہ کی امریکہ میں کام کی مکمل معلومات نہیں ہے، لیکن ایمیزون نے تصدیق کی کہ اس نام کے ساتھ ایک شخص گزشتہ موسم گرما میں ایک ماہ کے لیے کمپنی کے ساتھ آزاد ٹھیکیدار تھا، جو ایمزون فلیکس ڈیلیوری سروس کے لیے کام کر رہا تھا۔ رحمان اللہ کے پڑوسی نے کہا کہ اس نے ایک بار بتایا تھا کہ اس نے افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کیا ہے، لیکن فی الوقت رحمان اللہ بے روزگار تھا۔

ٹرمپ کی امیگریشن مخالف بیان بازی میں اضافہ

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے شوٹنگ کی تحقیقات شروع ہوتے ہی امیگریشن مخالف بیان بازی کو تیز کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر رحمان اللہ کو امریکہ لانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ یہ حملہ "ہماری قوم کو درپیش واحد سب سے بڑے قومی سلامتی کے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔" انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا جسے انہوں نے "20 ملین نامعلوم اور غیر جانچ شدہ غیر ملکی" کے طور پر بیان کیا جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکہ میں داخل ہوئے اور اسے "ہماری بقا کے لئے خطرہ" قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے رحمان اللہ کو "غیر ملکی جو ، زمین پر جہنم افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہوا" قرار دیا۔ انہوں نے مینیسوٹا میں رہنے والے صومالی تارکین وطن کو بھی نشانہ بنایا، اور "ہر ایک اجنبی کا دوبارہ جائزہ لینے کا عزم کیا جو بائیڈن کے تحت ہمارے ملک میں داخل ہوا ہے۔" صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد، امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز نے افغان تارکین وطن سے متعلق امیگریشن کیسز پر کارروائی روک دی ہے۔ ایجنسی نے 'ایکس' پر لکھا ـ وطن اور امریکی عوام کی حفاظت ہمارا واحد فوکس اور مشن ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔