امریکہ میں تشدد: 15 پوائنٹس میں جانیں پوری تفصیل

حملہ اس وقت پیش آیا جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں پر مبنی بھیڑ سے گزارش کی کہ وہ کیپٹل کی طرف مارچ کریں اور نومبر میں ہوئے انتخاب میں ملی شکست کو مسترد کر دیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

امریکہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی چہار جانب سے تنقید ہو رہی ہے۔ امریکی جمہوریت کا قلع تصور کی جانے والی کیپٹل بلڈنگ پر ہوئے پرتشدد حملے کے بعد پوری دنیا حیرت میں ہے۔ فسادیوں کو اکسانے میں ڈونالڈ ٹرمپ کے کردار کو لے کر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ حامیوں نے کیپٹل بلڈنگ پر قبضہ کر لیا تھا اور یہاں ہوئی گولی باری میں ایک خاتون کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد حالات دھیرے دھیرے خراب ہوتے چلے گئے اور کرفیو کا نفاذ کر دیا گیا۔ آئیے جانتے ہیں امریکہ میں پیدا حالات کے تعلق سے کچھ اہم نکات...

  1. حملہ اس وقت پیش آیا جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں پر مبنی بھیڑ سے گزارش کی کہ وہ کیپٹل کی طرف مارچ کریں اور نومبر میں ہوئے انتخاب میں ملی شکست کو مسترد کر دیں۔

  2. ٹرمپ حامی بھیڑ سینیٹ چیمبر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی جہاں کچھ منٹ پہلے انتخابی نتائج پر مہر ثبت کی گئی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق سینٹ چیمبر میں موجود ڈائس پر چڑھ کر ایک فسادی (ٹرمپ حامی) نے چیخ کر کہا ’’ٹرمپ نے انتخاب جیت لیا۔‘‘

  3. پیدا فساد کے سبب چار لوگوں کی موت واقع ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کیپٹل بلڈنگ میں ایک خاتون کی گولی لگنے سے اس وقت موت ہو گئی جب ٹرمپ حامی بھیڑ بلڈنگ میں داخل ہو رہی تھی اور وہ خاتون بھی بندشوں کو توڑ کر آگے بڑھ رہی تھی۔ واشنگٹن ڈی سی پولس چیف رابرٹ کونٹی نے اس واقعہ کی تصدیق کی اور کہا کہ دیگر تین افراد کی موت میڈیکل ایمرجنسی کے دوران ہوئی۔

  4. ڈی سی پولس نے دو پائپ بم برآمد کیے جانے کی بھی اطلاع دی۔ ایک پائپ بم ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے باہر اور ایک بم ریپبلک نیشنل کمیٹی کے باہر سے ملا۔ پولس نے کیپٹل گراؤنڈ میں موجود ایک گاڑی سے کولر بھی برآمد کیا جس میں ایک بندوق اور مولتو کوکٹیل تھا۔

  5. فساد پیدا کرنے والی بھیڑ کو صدر ٹرمپ نے ’بہت خاص‘ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ ٹرمپ نے تشدد کا دفاع کرتے ہوئے وسیع انتخابی دھوکہ دہی کے بے بنیاد دعووں کا حوالہ پیش کیا۔ صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا جس میں انھوں نے اپنے حامیوں سے گھر جانے کی گزارش کی، لیکن ساتھ ہی انھوں نے انتخابی نتائج کو ’چوری‘ قرار دیا اور پرتشدد بھیڑ سے کہا کہ ’’ہم تم سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ اس ویڈیو کو ٹوئٹر نے ڈیلیٹ کر دیا۔

  6. اس طرح کے پوسٹ اور خراب حالات کے پیش نظر صدر ٹرمپ کے ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کر دیئے گئے، تاکہ غلط خبریں نہ پھیل سکیں اور تشدد میں اضافہ نہ ہو۔ فیس بک نے یہ بھی اعلان کیا کہ مظاہرہ کے تعلق سے وہ سبھی تصویریں اور ویڈیوز والے پوسٹ ہٹا دے گا، حتیٰ کہ ان پوسٹ کو بھی جس میں مظاہرے و تشدد کی تعریف کی گئی ہو یا اسلحوں کے ساتھ نکلنے کی بات ہو، چاہے وہ امریکہ کے کسی بھی مقام پر ہو۔

  7. حالات کے پیش نظر امریکہ کے منتخب صدر جو بائڈن نے ٹرمپ سے کہا کہ وہ اس گھیرابندی کو ختم کریں۔ انھوں نے ولمنگٹن میں کی گئی ایک تقریر کے دوران کہا کہ ’’یہ مظاہرہ نہیں ہے، یہ بغاوت ہے۔ دنیا اسے دیکھ رہی ہے۔‘‘ قابل غور ہے کہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی موجودہ حالات میں ’بغاوت‘ لفظ کا استعمال کیا ہے۔

  8. کیپٹل میں ہوئے تشدد کے بعد سابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ تاریخ کیپٹل میں ہوئے تشدد کو بے ایمانی اور شرم کی شکل میں ہمیشہ یاد رکھے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی اچانک پیش آنے والا معاملہ نہیں ہے، بلکہ دو مہینے کا اثر ہے۔ ایک سیاسی پارٹی اور اس سے جڑا میڈیا نظام اپنے حامیوں کو سچ بتانے کو تیار نظر نہیں آیا۔

  9. تشدد کے چار گھنٹے بعد افسران نے اعلان کیا کہ کیپٹل محفوظ ہے اور بائڈن کی جیت کے سرٹیفکیشن کا عمل پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ کیپٹل کے گھیراؤ کو امریکی تاریخ میں سب سے خراب سیکورٹی خلاف ورزیوں میں سے ایک بتایا گیا۔ جو سینیٹر سینیٹ چیمبر سے نکال کر محفوظ مقام پر بھیجے گئے تھے، انھیں دوبارہ چیمبر میں بائڈن کی جیت کے سرٹیفکیشن کے لیے بلایا گیا۔

  10. اس درمیان نائب صدر مائک پینس کا رد عمل سامنے آیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جن لوگوں نے آج ہمارے کیپٹل پر قہر برپایا ہے، ان سے کہنا چاہوں گا کہ یہ آپ کی جیت نہیں ہے۔ تشدد کبھی نہیں جیت سکتا۔ آزادی کی جیت ہوئی ہے۔ اور اب بھی یہ پیپلز ہاؤس (عوام کا گھر) ہے... چلیے پھر سے کام شروع کرتے ہیں۔‘‘

  11. تشدد پر قابو پانے کے لیے بدھ کی شام 6 بجے سے جمعرات کی صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ اس درمیان امریکی پولس نے بتایا کہ یوایس کیپٹل میں تشدد کے بعد 52 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولس نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرمپ حامیوں نے واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ہل بلڈنگ پر قبضہ کر لیا تھا۔

  12. ریپریزنٹیٹو الہان عمر اور الیکژنڈریا اوکاسیو-کورٹیز نے ٹرمپ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا۔ عمر نے یہ بھی کہا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے لیے دستاویزات فائل کر رہی ہیں۔

  13. امریکہ کی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف اسٹیفنی گریشم کے استعفیٰ کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ انھوں نے کیپٹل میں تشدد کے سبب فوری اثر سے یہ استعفیٰ دیا۔ قابل ذکر ہے کہ گریشم وہائٹ ہاؤس پریس سکریٹری بھی رہ چکی ہیں۔

  14. ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت پوری دنیا کے سرکردہ رہنماؤں نے امریکہ میں پیش آئے تشدد کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کیپٹل میں رونما ہوئے پر تشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کے روز کہا ہے کہ ’’اقتدار کی منتقلی پرامن طریقے سے ہونا لازمی ہے ۔‘‘

  15. امریکہ میں کانگریس نے صدارتی انتخابات کے نتائج کو قبول کر لیا ۔ اس کے بعد امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کے باضابطہ طور پر منصب صدارت کا حلف اٹھانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next