کیوبا پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان بحیرہ کیریبین پہنچا یو ایس ایس نیمٹز، امریکہ کی فوجی موجودگی میں اضافہ
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کے خلاف اپنی بیان بازی تیز کر دی ہے اور اس جزیرہ نما ملک کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تعیناتی کا مقصد خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو مضبوط کرنا ہے۔

امریکہ اور کیوبا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اب فوجی محاذ پر بھی ہلچل بڑھا دی ہے۔ امریکہ طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس نیمٹز‘ اپنے اسٹرائیک گروپ کے ساتھ بحیرہ کیریبین پہنچ گیا ہے۔ یہ معلومات ’دی ہل‘ کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کے خلاف اپنی بیان بازی تیز کر دی ہے اور اس جزیرہ نما ملک کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تعیناتی کا مقصد خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو مضبوط کرنا ہے۔
امریکی بحریہ کے اس طاقتور اسٹرائیک گروپ میں ایف/اے-18 ای سپر ہارنیٹ جنگی طیارے، ای اے -18 جی گروور الیکٹرانک جنگی طیارے اور سی-2 گرے ہاؤنڈ سپورٹ ایئر کرافٹ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یو ایس ایس گرڈلی تباہ کن جنگی جہاز اور یو ایس این ایس پیٹکسینٹ ایندھن سپلائی کرنے والے جہاز بھی موجود ہیں۔ یو ایس ساؤدرن کمانڈ (ساؤتھ کام) نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یو ایس ایس نیمٹز نے آبنائے تائیوان سے لے کر خلیج عرب تک استحکام کو یقینی بناتے اور جمہوریت کی حفاظت کرتے ہوئے دنیا بھر میں اپنی جنگی صلاحیت ثابت کی ہے۔ 1975 میں کمیشن کئے گئے اس ایئر کرافٹ کیرئر نے حال ہی میں ریو ڈی جنیرو کے ساحل پر برازیل کی بحریہ کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں میں حصہ لیا تھا۔ یہ معلومات برازیل میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے دی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے خلاف اپنا موقف سخت کیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو پر 1996 میں بین الاقوامی پانیوں میں دو شہری طیاروں کو مار گرانے سے متعلق قتل اور دیگر جرائم کا باضابطہ فرد جرم عائد کی جس میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ٹرمپ نے اسے کیوبا- امریکی کمیونٹی کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے۔ یہ نہ صرف کیوبا کے امریکیوں کے لیے بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی جو کیوبا سے آئے ہیں اور کیوبا واپس جانا چاہتے ہیں، کیوبا میں اپنے اہل خانہ سے ملنا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیوبائی عوام کے نام ہسپانوی زبان میں پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کو بجلی کے بحران اور معاشی مسائل کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ روبیو نے امریکی ایندھن کی ناکہ بندی کی پالیسی کی بھی حمایت کی۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے حال ہی میں کیوبا کے حکام سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے صاف کہا کہ بات چیت کے امکانات ہمیشہ کے لیے کھلے نہیں رہیں گے۔ اس بیان کے بعد سفارتی حلقوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
