پوتن کی حمایت اور روسی تیل خریدنے کی قیمت بھگت رہا ہندوستان، چین-برازیل کو بھی جلد احساس ہوگا: امریکی سینیٹر
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ہندوستان، چین اور برازیل پر الزام لگایا کہ روسی تیل خرید کر وہ یوکرین میں شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ کیف میں تازہ حملے میں 21 ہلاک اور 48 زخمی ہوئے ہیں

روس-یوکرین جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ روس نے یوکرین کی راجدھانی کیف پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوئے۔ حملے کے نتیجے میں ہزاروں کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور تقریباً 100 عمارتیں، جن میں ایک شاپنگ مال بھی شامل ہے، تباہ ہو گئیں۔ کیف کے مرکزی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، اور یورپی یونین کے سفارتی دفاتر کو بھی نقصان پہنچا۔ یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے 598 ڈرون اور 31 میزائل داغے، زیادہ تر کیف پر۔ یہ حملہ 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد راجدھانی کے مرکز پر ہونے والے چند ہولناک حملوں میں سے ایک ہے۔
اسی دوران امریکی سینیٹر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہم نے ہندوستان، چین اور برازیل پر شدید تنقید کی ہے۔ گراہم نے الزام عائد کیا کہ یہ ممالک روس سے تیل خرید کر اس کی ’جنگی مشین‘ کو طاقت دے رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں بےگناہ شہری، بشمول بچے، ہلاک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ممالک ’غیر مستقیم طور پر شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں‘۔
گراہم نے ہندوستان پر خصوصی طور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندوستان پوتن کی حمایت کرنے کی قیمت بھگت رہا ہے۔ دیگر ممالک کو بھی جلد یہ احساس ہوگا۔‘ انہوں نے چین اور برازیل کا نام لے کر خبردار کیا کہ روس کی جنگی مشین کو سہارا دینے کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ہندوستان پر روس سے تیل خرید کر جنگی فنڈنگ کرنے کے الزام میں 50 فیصد ٹیرف عائد کر چکا ہے۔ امریکی موقف کے مطابق، ہندوستان روس سے جو رقم ادا کرتا ہے، وہ روس کو ہتھیار بنانے اور یوکرینی شہریوں پر حملے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ہندوستان نے بارہا ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔
روس کے تازہ حملے میں بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ کیف کے 10 اضلاع میں 33 مقامات براہِ راست حملے یا ملبے کی زد میں آئے۔ اس حملے نے عالمی برادری کی توجہ دوبارہ یوکرین میں جاری انسانی بحران کی طرف مرکوز کر دی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔