امریکی صدارتی انتخابات: ڈونالڈ ٹرمپ سمیت دیگر لیڈران نے نتائج پر اٹھائے سوال

فاکس نیوز کے ساتھ گفتگو میں سینیٹر گراہم نےانتخابی فاتح کے بارے میں کسی نتیجے پر جلدبازی نہ کرنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ یہ چناؤ لڑا گیا ہے اور میڈیا یہ طے نہیں کرے گا کہ الیکشن کس نے جیتا۔

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

واشنگٹن: موجودہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمیت ریپبلکن پارٹی کے متعدد لیڈران اور دیگر رہنماؤں نے صدارتی انتخابات میں ہوئی ووٹوں کی گنتی کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے اعلی سینیٹروں میں سے سینیٹر لنڈسے گراہم اور ٹیڈ کروز نے بھی گنتی کے کچھ نظامات پر سوال اٹھائے ہیں۔

فاکس کے ساتھ گفتگو میں سینیٹر گراہم نےانتخابی فاتح کے بارے میں کسی نتیجے پر جلدبازی نہ کرنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ یہ چناؤ لڑا گیا ہے اور میڈیا یہ طے نہیں کرے گا کہ الیکشن کس نے جیتا۔ حالانکہ امریکی میڈیا نے صدارتی انتخابات میں فاتح کے طور پر جو بائیڈن کو پیش کیا ہے۔

انہوں نے ووٹوں کی گنتی کے پیش نظر سامنے آئے کچھ تضادات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ’’ٹرمپ کی ٹیم نے پنسلوانیا میں ابتدائی ووٹوں اور غیر حاضر بیلٹ پیپروں کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ ووٹ دینے والے سو سے زائد ایسے افراد تھے جو مرچکے ہیں۔ ایسے 15 لوگوں کی تو تصدیق بھی ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ سنیٹر ٹیڈ کروز نے بھی اسی طرح کے خدشات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مشی گن کی تمام 47 کاؤنٹیوں میں صدارتی انتخابات کے دوران ووٹنگ کے لئے استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2000 میں ہوا انتخابی تنازعہ جب سپریم کورٹ پہنچا تو اسے حل کرنے میں 36 دن لگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عمل اس الیکشن کے بارے میں بھی ہونا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next