چین کے خلاف سخت پابندیوں کا راستہ ہموار، امریکی ایوانِ نمائندگان سے بل منظور
امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک فنڈنگ بل منظور کیا ہے جس کے تحت چین کے ساتھ تجارت، ٹیکنالوجی، سائنسی تعاون اور سرکاری دوروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ سلامتی اور معاشی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے

واشنگٹن: امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک جامع فنڈنگ بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت چین سے متعلق سلامتی، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سخت پابندیاں نافذ کی جائیں گی۔ اس قانون کا مقصد امریکی برآمدات پر کنٹرول کو مضبوط بنانا، تجارتی قوانین پر سختی سے عمل کرانا، سرکاری سطح پر حساس ٹیکنالوجی کی خریداری پر قدغن لگانا اور چین کے ساتھ تعاون کو محدود کرنا ہے۔
اس بل کے تحت برآمدی کنٹرول قوانین کے نفاذ کے لیے اضافی فنڈ فراہم کیے گئے ہیں تاکہ حساس امریکی ٹیکنالوجی چین تک منتقل ہونے سے روکی جا سکے۔ بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی کے بجٹ میں 44 ملین ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی مجموعی فنڈنگ 235 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ قانون سازوں کے مطابق اس سے قومی سلامتی کو لاحق خطرات پر بہتر نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
چین سے جڑے تجارتی معاملات میں اینٹی ڈمپنگ اور کاؤنٹر ویلنگ ڈیوٹی کے نفاذ کے لیے بھی 16.4 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی مزدوروں اور صنعتوں کو غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
قانون میں سرکاری اداروں کی جانب سے نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹمز کی خریداری پر بھی سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ کامرس ڈپارٹمنٹ، جسٹس ڈپارٹمنٹ، ناسا اور نیشنل سائنس فاؤنڈیشن جیسے ادارے اس وقت تک نئی ٹیکنالوجی نہیں خرید سکیں گے جب تک سپلائی چین اور سائبر سلامتی سے متعلق مکمل جانچ نہ ہو جائے، خاص طور پر چین جیسے غیر ملکی مخالفین کے ممکنہ کردار کو مدنظر رکھا جائے گا۔
امریکہ اور چین کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون پر بھی نمایاں پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ناسا اور آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کو چین یا چینی ملکیت والی کمپنیوں کے ساتھ دو طرفہ تعاون سے پہلے کانگریس کی واضح اجازت لینا لازمی ہوگا۔
اس کے علاوہ، چین کے سرکاری دوروں پر جانے والے امریکی حکام کی تفصیلات باقاعدگی سے کانگریس کو فراہم کرنا ہوں گی۔ توانائی اور جوہری سلامتی کے شعبے میں بھی نئے قواعد شامل کیے گئے ہیں، جن کے تحت اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر سے چین کو خام تیل کی فروخت پر پابندی اور امریکی جوہری ہتھیاروں کی تنصیبات تک چین اور روس کے شہریوں کی رسائی پر روک عائد کی گئی ہے۔
ایوانِ نمائندگان کی چین سے متعلق سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین جان مولنار کے مطابق یہ قانون امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل، ٹیکنالوجی اور توانائی کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔