امریکہ کی عالمی صحت فنڈنگ میں بڑی کٹوتی، فیملی پلاننگ پروگرام متاثر، خواتین کی صحت بحران کا شکار

امریکہ کی جانب سے عالمی صحت فنڈنگ میں کٹوتی کے باعث فیملی پلاننگ اور خواتین کی صحت کی سہولیات متاثر ہوئیں۔ کئی ممالک میں کلینک بند، ادویات کی کمی اور خدمات تک رسائی مشکل ہو گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے عالمی سطح پر صحت سے متعلق فنڈنگ میں بڑی کٹوتی کے فیصلے نے کئی ممالک میں خواتین کی صحت کی سہولیات کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ سال 2025 اور 2026 کے دوران فنڈنگ میں نمایاں کمی کے بعد امریکی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی نے 5300 سے زائد گرانٹس اور معاہدوں کو ختم کر دیا، جس کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں خاص طور پر فیملی پلاننگ پروگرام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک میں خواتین کے لیے بنیادی صحت خدمات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔ مقامی نرس کیفن اوجونگا نے بتایا کہ امریکی امداد کے ذریعے چلنے والے موبائل کلینکس پہلے مفت برتھ کنٹرول، زچگی سے متعلق معائنے اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرتے تھے، مگر فنڈنگ رکنے کے بعد یہ سہولتیں یا تو بند ہو گئیں یا انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

مزید یہ کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران مختلف ممالک میں طبی اداروں اور غیر منافع بخش تنظیموں نے عملے کی برطرفیوں، ادویات کی قلت اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان مسائل نے پہلے سے کمزور صحت نظام کو مزید بحران کا شکار بنا دیا ہے۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کے پاس متبادل سہولیات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، جس کے باعث ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


بین الاقوامی منصوبہ بند والدین فیڈریشن کے اندازے کے مطابق فنڈنگ میں کمی کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریباً 1400 طبی مراکز بند ہو چکے ہیں۔ اس کے باعث 2025 میں قریب 90 لاکھ افراد تولیدی اور جنسی صحت کی بنیادی خدمات سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف خواتین بلکہ مجموعی عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

دوسری جانب امریکی حکومت نے مالی سال 2027 کے بجٹ میں عالمی صحت پروگراموں کے لیے مزید کٹوتیوں کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کی مزید کمی متوقع ہے، جس سے تولیدی صحت سے متعلق بیشتر پروگرام مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں۔ بجٹ دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی فنڈنگ ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو جو برتھ کنٹرول تک بلا رکاوٹ رسائی کو فروغ دیتی ہوں۔

اگرچہ اس بجٹ تجویز کی حتمی منظوری کانگریس کے ہاتھ میں ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حکومت کی ترجیحات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ عالمی سطح پر صحت کے شعبے سے وابستہ ادارے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو کمزور ممالک میں صحت کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔