آبنائے ہرمز پر کشیدگی: ٹرمپ کی دھمکی کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی، عالمی منڈیوں پر دباؤ

آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی اور ٹرمپ کی دھمکی کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جہازرانی متاثر ہونے سے عالمی توانائی، خوراک اور معیشت پر گہرے اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

واشنگٹن: ایران اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں اور سپلائی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ تازہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت موقف اختیار کیا گیا، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ نہیں کھولا گیا تو ایرانی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتیں اوپر چلی گئیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 113 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔

آبنائے ہرمز، جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے، عالمی تیل تجارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر عالمی منڈیوں کو متاثر کرتی ہے۔


موجودہ کشیدگی کے نتیجے میں جہازرانی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق ٹینکرز کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے نہ صرف توانائی بلکہ خوراک اور کھاد کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف تیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت کے مختلف شعبے اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔

ادھر امریکہ میں بھی اس بحران کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث عام صارفین پر بوجھ بڑھ رہا ہے، جبکہ فضائی شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے ایئر لائنز کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور کرایوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک متاثر رہی تو ایشیا اور یورپ جیسے خطے، جو توانائی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، جس سے سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔

ادھر عمان اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ جب تک اس کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، وہ آبنائے کو کھولنے کے لیے تیار نہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے اور توانائی کے شعبے میں طویل بحران کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔