غیر محفوظ غذا سے ہر سال 15 لاکھ اموات، بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ: عالمی ادارۂ صحت

رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ اور آلودہ غذا ہر سال تقریباً 15 لاکھ اموات کا سبب بنتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جبکہ افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا زیادہ خطرے میں ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

جنیوا: عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غیر محفوظ اور آلودہ غذا دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ افراد کی جان لے رہی ہے۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ اب بھی عالمی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر کم عمر بچوں پر پڑ رہا ہے۔

رپورٹ میں سن 2000 سے 2021 تک 194 ممالک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق ہر سال تقریباً 88 کروڑ 60 لاکھ افراد آلودہ یا غیر محفوظ غذا کے استعمال کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اس طرح کی بیماریوں کا خطرہ دیگر عمر کے افراد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پایا گیا ہے، جس سے بچوں کی صحت پر اس مسئلے کے سنگین اثرات واضح ہوتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا کہ غذائی تحفظ صرف صحت کا معاملہ نہیں بلکہ ہر فرد اور ہر خاندان کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق محفوظ غذا تک رسائی ہر انسان کا حق ہے اور اس مقصد کے لیے حکومتوں، اداروں اور معاشروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔


رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران خوراک سے پیدا ہونے والی بعض بیماریوں میں کمی ضرور آئی ہے، تاہم دنیا کے کئی خطوں میں صورت حال اب بھی تشویش ناک ہے۔ افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا ان خطوں میں شامل ہیں جہاں غذائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات کی شرح سب سے زیادہ دیکھی گئی۔ ان دونوں خطوں میں خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں کے تقریباً 75 فیصد واقعات اور 60 فیصد اموات ریکارڈ کی گئیں۔

ماہرین کے مطابق بیکٹیریا، وائرس اور دیگر حیاتیاتی عوامل ایسی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ آرسینک اور سیسے جیسے مضر کیمیائی عناصر سے آلودہ غذا بھی متعدد جان لیوا بیماریوں اور اموات کا سبب بن رہی ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور جراثیم کش ادویات کے خلاف بڑھتی مزاحمت اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے اور موسمی پیٹرن میں تبدیلی کے باعث خوراک کے آلودہ ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جبکہ ادویات کی کم ہوتی تاثیر بیماریوں کے علاج کو مشکل بنا رہی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے نتیجے میں صرف 2021 میں عالمی معیشت کو تقریباً 647 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ادارے نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غذائی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں اور عوام کو محفوظ اور معیاری غذا کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔