بنگلہ دیش میں خسرہ سے مزید پانچ بچوں کی موت، تعداد بڑھ کر 560 ہوئی
بنگلہ دیش میں خسرہ اور اس جیسی علامات کے باعث مزید پانچ بچوں کی جان چلی گئی، جس کے بعد اموات کی تعداد 560 تک پہنچ گئی۔ ماہرین نے عید کے دوران سفر اور بھیڑ بھاڑ سے انفیکشن بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں خسرہ اور اس سے ملتی جلتی علامات کی وجہ سے مزید پانچ بچوں کی موت ہو گئی ہے، جس کے بعد 15 مارچ 2026 سے اب تک جان گنوانے والے بچوں کی مجموعی تعداد 560 تک پہنچ گئی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں صحت کا بحران مسلسل سنگین صورت اختیار کر رہا ہے اور نئے مریضوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے محکمہ صحت خدمات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق بدھ کی صبح تک سامنے آنے والی معلومات میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ مشتبہ اموات ڈھاکہ ڈویژن میں درج کی گئیں، جہاں دو بچوں کی موت ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک خسرہ کے باعث 88 بچوں کی جان جا چکی ہے، جبکہ خسرہ جیسی علامات اور متعلقہ پیچیدگیوں کی وجہ سے 472 بچوں کی موت ہوئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 56 نئے مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں، جس کے بعد مجموعی مشتبہ معاملات کی تعداد 67 ہزار 79 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی عرصے میں خسرہ کے 62 نئے مریض بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
ملک میں خسرہ اور روبیلا کے خلاف خصوصی ٹیکہ کاری مہم کا ابتدائی مرحلہ 20 مئی کو مکمل ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود بیماری کے پھیلاؤ میں کمی نہیں آ سکی۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق مئی کے دوران تقریباً ہر روز ایک ہزار سے زیادہ نئے مشتبہ معاملات سامنے آ رہے ہیں، جس سے طبی ماہرین میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عید کی تعطیلات کے دوران زیادہ سفر، لوگوں کے اجتماعات اور رشتہ داروں سے ملاقاتیں وائرس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر چھوٹے بچوں والے خاندانوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری سفر اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے گریز کریں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرم موسم اور دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی بھی صورتحال کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سفر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
متعدی امراض کے ایک سرکاری اسپتال کی ڈائریکٹر ایف اے اسما خانم نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ موجودہ حالات میں غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھنا بہتر ہوگا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے صحت وزیر سردار محمد سخاوت حسین نے بھی خبردار کیا ہے کہ عید کے دوران عوامی مقامات اور ذرائع نقل و حمل میں بڑھتی بھیڑ انفیکشن کے پھیلاؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بیمار یا حال ہی میں صحت یاب ہونے والے بچوں کو ہجوم والی جگہوں پر لے جانے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکہ کاری انفیکشن کے خطرے کو کم ضرور کرتی ہے لیکن احتیاط، صفائی اور شعور اب بھی انتہائی ضروری ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ٹیکہ کاری مہم کے اثرات سامنے آئیں گے اور صورتحال میں بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
