سعودی عرب 6 نابالغوں کو سزائے موت نہ دے: اقوام متحدہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان چھ لوگوں میں علی النمر، داود المہرون، عبداللہ لزہر، مجتبی السویکت، سلمان قریشی اور عبدالکریم الہواج نے مظالم اور بیماریوں کی وجہ سے مبینہ طورپر جرائم کا اعتراف کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ انسانی حقوق ماہرین نے سعودی عرب سے فوری طورپر ان چھ لوگوں کی پھانسی کی سزا روکنے کیلئے کہا ہے جنہوں نے 18 برس سے کم عمر میں جرائم کئے تھے۔ اقوام متحدہ نیوز کے مطابق ماہرین نے کہاکہ ان لوگوں کو پھانسی دینا ایک طرح سے من مانی کارروائی جیسا ہوگا کیونکہ انہوں نے جو جرائم کئے تھے اس وقت ان کی عمر 18برس سے کم تھی اور انہیں اس وقت اتنی سمجھ نہیں رہی ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان 6 لوگوں میں علی النمر، داود المہرون، عبداللہ لزہر، مجتبی السویکت، سلمان قریشی اور عبدالکریم الہواج نے مظالم اور بیماریوں کی وجہ سے مبینہ طورپر جرائم کا اعتراف کیا تھا۔ انہیں معاملہ کی سماعت کے دوران مناسب قانونی مددبھی فراہم نہیں کی گئی اور ان کی شکایتوں کومناسب طریقہ سے حل نہیں کیا گیا۔

اقواام متحدہ انسانی حقوق دفتر نے پیر کو جاری کی گئی ریلیز میں بتایا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے اطفال کے حقوق پر جو معاہدہ پیش کیا گیا تھا اس پر سعودی عرب نے دستخط کئے تھے۔ اس معاہدہ میں کہا گیا تھا کہ 18 برس سے کم عمر کے ہر شخص کے ساتھ بچے کی طرح سلوک کیا جائے گا اور اسکے پیش نظر سعودی حکومت کو ان اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو کبھی موت کی سزا نہیں دی جاسکتی ، اگر سعودی عرب ایسا کرتا ہے تویہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔ ان حالات میں اگر ان چھ لوگوں کو پھانسی دی جاتی ہے تو یہ من مانی کارروائی جیسا ہی ہوگا۔

Published: 30 Oct 2018, 5:09 PM
next