یوکرین کے صدر زیلنسکی پہنچے سویڈن، وزیر اعظم کے ساتھ دفاعی تعاون اور ڈرون ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال
زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ماہرین نے مغربی ایشیا کے ممالک، خاص طور پر خلیجی خطے میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کی حفاظت میں بھی مدد کی ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی جمعرات کو سویڈن کے دورے پر پہنچے۔ وہاں انہوں نے سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن کے ساتھ دفاعی تعاون کے حوالے سے اہم بات چیت کی۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک ایک بڑے دفاعی پیکیج کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس معاہدے میں یوکرین کو ’پرپرین‘ جنگی طیاروں کی فراہمی پر بھی بات چل رہی۔
یوکرین گزشتہ 4 سال سے زائد عرصے سے روس کے حملوں کا سامنا کررہا ہے۔ اس طویل جنگ کے دوران یوکرین نے ڈرون ٹیکنالوجی میں کافی مہارت حاصل کی ہے۔ اب زیلنسکی دوسرے ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط کرنے کے لیے اپنی اس مہارت کا استعمال کر رہے ہیں۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ماہرین نے مغربی ایشیا کے ممالک، خاص طور پر خلیجی خطے میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کی حفاظت میں بھی مدد کی ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین نے یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ ڈرون تیار کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے فوجی منصوبے یوکرین سے آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔
جنگ کے میدان میں یوکرین کے ڈرون 1,250 کلومیٹر طویل سرحد کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ ڈرون روس کے سپلائی راستوں پر درست حملے کر رہے ہیں، جس سے روس کی فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں نے روس کی طاقت کو محدود کر دیا ہے۔ ان حملوں سے روس کے لیے اپنے فوجیوں کو رسد اور ضروری سامان پہنچانا مشکل ہو رہا ہے۔
روس نے اب تک یوکرین کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس میں کریمیا کا علاقہ بھی شامل ہے، جسے روس نے 2014 میں اپنے قبضے میں لیا تھا۔ حالانکہ روس نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ برطانوی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے بتایا کہ اس جنگ میں اب تک تقریباً 5 لاکھ روسی فوجی مارے جا چکے ہیں۔
اس سب کے باوجود طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائلوں کے معاملے میں روس ابھی بھی یوکرین سے آگے ہے۔ روس ان میزائلوں سے یوکرین کے پاور پلانٹس اور شہروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے روس نے یوکرین کی راجدھانی کیف پر تقریباً 90 میزائل اور سینکڑوں ڈرون فائر کیے تھے۔ زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور یوکرینی پارلیمنٹ کو خط لکھ کر مزید فضائی دفاعی ہتھیاروں کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ پی اے سی-3 میزائلوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران جنگ کی وجہ سے امریکی امداد میں کمی خطرناک ہو سکتی ہے۔ کیف کو مزید بڑے حملوں کا خطرہ ہے لیکن غیر ملکی سفارت خانوں نے ابھی تک شہر نہیں چھوڑا ہے۔
