روس۔ یوکرین امن عمل میں تیزی،امریکہ نے مذاکرات کے لیے ’واضح ڈیڈ لائن‘ مقرر کردی
حال ہی میں ابوظہبی میں امریکی ثالثی میں یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے تاہم اس میں کوئی اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکا۔ زمین تقسیم اورحفاظتی گارنٹی جیسے اہم مسائل اب بھی الجھے ہوئے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے جون تک امن معاہدہ چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بیان جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا۔ زیلنسکی کے مطابق امریکہ نے مذاکرات کے لیے واضح ڈیڈ لائن مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ جون تک تمام ضروری مذاکرات مکمل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مقررہ وقت تک معاہدہ نہ ہوا توامریکہ دونوں ممالک پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امن عمل کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ حال ہی میں ابوظہبی میں امریکی ثالثی میں یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے تاہم اس میں کسی بڑے مسئلے پر اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکا۔ زمین کی تقسیم اور حفاظتی ضمانتیں جیسے اہم مسائل اب بھی الجھے ہوئے ہیں۔
روس اب بھی یوکرین کے مشرقی ڈونباس علاقے کا کنٹرول چاہتا ہے جسے یوکرین نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان زاپریا جوہری پلانٹ کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا ہے، جو اس وقت روسی کنٹرول میں ہے۔ زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے مذاکرات کا اگلا دور امریکہ میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ ملاقات اگلے ہفتے میامی میں ہونے کا امکان ہے۔ یوکرین نے اس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔
وہیں دوسری طرف روس یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ان حملوں کی وجہ سے جوہری پاور پلانٹس کو پیداوار کم کرنا پڑا ہے اور موسم سرما کے دوران ملک میں بجلی کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ امریکہ نے ایک بار پھر توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے جنگ بندی کی تجویز دی ہے۔ یوکرین نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم روس نے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ ہفتے کے روز ایک روسی ڈرون حملے نے یوکرین کے علاقے پاولوہراڈ میں کان کنوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا۔ جس میں 15 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔ بس میں آگ لگ گئی جسے فائر فائٹرز نے بجھایا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔