30 فیصد نمازیوں کی شرط کے ساتھ یو اے ای میں یکم جولائی سے مساجدکھولنے کا اعلان

عبادت گزارکو اپنے ساتھ اپنا مصلیٰ گھر سے لاناہوگا، ماسک پہننا ہوگا، وضوگھر سے کر کر آنی ہوگی اور مساجد میں آنے سے قبل ہاتھوں کو سینی ٹائز کرنا ہوگا

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا بحران کے بعد سے دنیا بھر کی زیادہ تر عبادت گاہیں بند ہیں ۔ مسلمان جن پر دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا فرض ہے اورنمازکا مسجد میں ادا کرنا فضیلت میں شامل ہے وہ مساجد کے بند ہونے سے بہت پریشان اور افسردہ تھے لیکن کئی ممالک نے پہلےہی کچھ شرائط کے ساتھ نمازیوں کے لئے مساجدکھولنے کااعلان کر دیاتھا اب متحدہ عرب امارات نے بھی اعلان کیا ہےکہ وہاں یکم جولائی سے مساجد اور عبادت گاہوں کو بتدریج کھول دیا جائےگا لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ ان میں کل گنجائش کے مطابق صرف 30 فیصد عبادت گزاروں کو آنے کی اجازت ہوگی۔

اماراتی حکومت نے پیر کو ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات بدستور تاحکم ثانی معطل رہیں گے۔

یو اے ای کی نیشنل ایمرجنسی کرائسیس اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این کیما) کے ترجمان سیف الظاہری نے بیان میں کہا ہے کہ ’’عبادت گزاروں کو عبادت (نمازوں کی ادائی) کے وقت ایک دوسرے سے سماجی فاصلے کے قاعدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔انھیں ایک دوسرے سے تین میٹر کا محفوظ فاصلہ اختیار کرنا چاہیے،جمگھٹا نہیں لگانا چاہیے اور کسی بھی شکل میں ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

ترجمان نے مزید ہدایت کی ہے کہ ’’ ہر عبادت گزار اپنے ساتھ اپنا مصلیٰ (جا نماز) گھر سے لے کر آئے۔نماز کے بعد اس مصلے کو مسجدمیں رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نمازی گھروں سے ہی وضو کرکے آئیں اور مساجد میں آنے سے قبل مسلسل ہاتھوں کو سینی ٹائز کریں۔نمازیوں کو ہر نماز کے وقت چہرے پر لازمی طور پر ماسک پہننا ہوگا۔‘‘

واضح رہے کہ یواے ای کی حکومت نے 16 مارچ کو ملک بھر میں مساجد سمیت تمام عبادت گاہوں میں چار ہفتے کے لیے پنجہ وقتہ نمازوں کی ادائی معطل کردی تھی اور پھر اس پابندی میں غیر معیّنہ مدت کے لیے توسیع کردی تھی۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا تھا۔

next