ٹرمپ کی موجودگی میں یو اے ای اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کئے

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ان معاہدوں کو امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے ڈونالڈ ٹرمپ کی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر بھنایا جائے گا۔

تصویر ویڈیو گریب ڈبلو ایس جے
تصویر ویڈیو گریب ڈبلو ایس جے
user

قومی آوازبیورو

یو اے ای اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ معمول پر تعلقات کو کل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگی میں حتمی شکل دی گئی اور تینوں ممالک نے معاہدوں پر دستخط کئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان معاہدوں کو سنگ میل قرار دیتے ہوئے انہیں ’نئے مشرق وسطی کا آغاز‘ کہہ کر خوش آمدید کیا ہے۔

واضح رہےسنہ 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد یہ دونوں خلیجی ریاستیں اسے تسلیم کرنے والے تیسرے اور چوتھے عرب ممالک ہیں۔واضح رہے کہ بیشتر عرب ریاستوں نے کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بائیکاٹ کر ا ہوا ہے اور وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اسرائیل سے تنازعہ کے بعد ہی تعلقات استوار کرنے کی جانب کوئی قدم اٹھائیں گے۔

اسرائیل کے کمزور اور بدعنوانی کے الزامات سے گھرے ہوئے وزیراعظم نتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے ان معاہدوں کو خوش آمدید کہا کہ ’یہ دن تاریخی طور سے بہت اہم ہے، یہ امن کے ایک نئے آغاز کی علامت ہے۔‘ اس کے بر عکس فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں سے صرف اسرائیلی انخلا ہی مشرق وسطی میں امن قائم کر سکتا ہے۔

واضح رہے جو ان معاہدوں کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے میں مدد ملے گی اور خلیجی ممالک کو تجارت کرنے کے کئی نئے مواقع ملیں گے۔ معاہدہ کرنے والے عرب ممالک کو امید ہے کہ اس کے بعد امریکہ سے ہتھیار لینے میں آسانی ہوگی۔ ان معاہدوں کا زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوگا کیونکہ اس کی خطہ میں تنہائی کم ہوگی اور اس کو تجارت کے لئے نئے ممالک مل جائیں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ان معاہدوں کو امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے ڈونالڈ ٹرمپ کی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر بھنایا جائے گا۔ یہ معاہدے جہاں ایران کے لئے نئے مسائل پیدا کریں گے وہیں بہت ممکن ہے کہ یہ فلسطین کے لئے ایک بڑا دھوکہ ثابت ہوں۔

next