طیب اردوغان نے اقوام متحدہ میں اٹھایا کشمیر کا مسئلہ

ترکی کے صدر طیب اردوغان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لئے مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کئی مرتبہ کشمیر کے مدے پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، اس درمیان ہندوستانی اور پاکستانی وزیر اعظم سے بات بھی کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بعد اب ترکی کے صدر طیب اردوغان نے بھی اقوام متحدہ میں دیئے اپنے خطاب میں کشمیر کے مدے پر بیان دیا ہے۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے اردوغان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے استحکام اور خوشحالی کو کشمیر سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیر میں 80 لاکھ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ واضح رہے ہندوستان نے متعدد مرتبہ اس بات کو کہا ہے کہ کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے اور اس پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی اور بیان کی ضرورت نہیں ہے۔

طیب اردوغان نے ہندوستان کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر مسئلہ کو باہمی بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھر طیب اردوغان کے بیان سے پاکستان بہت خوش ہے۔ اقوام متحدہ میں اردوغان کے دیئے بیان کو پاکستان اپنی حمایت سمجھ رہا ہے جبکہ انہوں نے اقوام متحدہ میں یہ مدا اٹھایا ضرور ہے لیکن اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔ اردوغان نے کہا ہے کہ 72 سال پرانے کشمیر مدے کو انصاف اورغیر جانبداری کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس مدے پر اقوام متحدہ کے رویہ پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔

واضح رہے 5 اگست کو نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹا دیا تھا اور ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کر دیا تھا۔ کشمیر میں اس فیصلہ کا سیاسی رد عمل روکنے کے لئے حکومت نے مواصلاتی اور دیگر کئی پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کی وجہ سے وادی میں ابھی بھی تعلیم ادارہ نہیں کھلے ہیں۔