ایران کے خلاف اب منمانی نہیں کر پائیں گے ٹرمپ! صدر کے اختیارات محدود کرنے والی قرار داد امریکی سینیٹ میں پاس

سینیٹ میں ووٹنگ کے دوران سب سے زیادہ حیرانی کی بات یہ رہی کہ صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے 4 اراکین (سینیٹرز) نے بغاوت کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی (ڈیموکریٹس) کا ساتھ دیا، یعنی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ&nbsp;ٹرمپ </p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مبینہ جنگی جنون پر سینیٹ نے زوردار بریک لگا دیا ہے۔ 7 بار مسلسل ناکامی کے بعد آخر کار امریکی سینیٹ نے صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے والی ایک اہم قرار داد پاس کر دی ہے۔ یہ قرارداد خاص طور پر ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی روکنے، ایران کے گرد قائم ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی فوجی دستوں کو واپس بلانے کے لئے لائی گئی تھی۔ سینیٹ کا یہ قدم ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے کیونکہ اب صدر اپنی مرضی سے ایران کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کر پائیں گے۔

یہ پہلی بار ہے کہ ایران تنازع شروع ہونے کے بعد امریکی سینیٹ نے ایسے اقدام کی منظوری دی ہے جو مستقبل میں ایران پر مزید امریکی حملوں کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کر سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف کامیاب ہونے والی اس قرارداد کے حق میں 50 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے۔ سب سے حیرانی کی بات یہ رہی ہے کہ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے 4 اراکین (سینیٹرز) نے بغاوت کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی (ڈیموکریٹس) کا ساتھ دے کر قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ جن 4 ریپبلکن لیڈران نے ٹرمپ کے خلاف جا کر ووٹ دیا ان کے نام سسان کولنس، لیسا مرکووسکی، رینڈ پال اور بیل کیسیڈی ہیں۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق ڈیموکریٹس پارٹی کے ذریعہ اس قرارداد کو پاس کرانے جانے کی یہ 8ویں کوشش تھی جو اب جا کر کامیاب ہوئی ہے۔


اس قرارداد کو ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ٹم کین نے پیش کی تھی۔ قرارداد کا سیدھا اور صاف مطلب ہے کہ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ بغیر سینیٹ کی منظوری  کے ایران پر حملہ نہیں کر سکتے۔ قرار داد میں صاف لکھا ہے کہ جب تک کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) کی طرف سے سرکاری طور پر جنگ کا اعلان نہیں کیا جاتا یا فوج کے استعمال کی منظوری نہیں مل جاتی تب تک صدر کو امریکی فوج کو ایران کے خلاف کسی بھی طرح کی دشمنی سے دور رکھنا ہوگا۔ یہ قانون صدر کے اختیارات پر براہ راست لگام لگاتا ہے۔

اس قرارداد کی منظوری سے جمہوریت پسند رہنما پرجوش ہیں۔ کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ سینیٹ کے ڈیموکریٹس نے ایک بار پھر اس ’غیر آئینی جنگ‘ کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ریپبلکن ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی اس قدم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نہ ختم ہونے والی جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ ہم ملک کے بڑے بحرانوں کا ازالہ کریں اور اس غیر آئینی جنگ کو فوری طور پر ختم کریں۔


سینیٹ میں یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ اس سے قبل پیر کو ٹرمپ نے خود انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر ایک بڑا ’منصوبہ بند حملہ‘ روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ’ٹرتھ سوشل‘ اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ میں کہا تھا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر محمد بن زید النہیان نے خاص طور پر ان سے حملے سے بچنے کی اپیل کی تھی۔ ان رہنماؤں کا خیال تھا کہ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ایک اچھا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔