چین پر 145 فیصد ٹیرف، ٹرمپ کا اعلان، تجارتی جنگ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے!

امریکہ نے چین پر 145 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جسے ٹرمپ نے تاریخی قدم قرار دیا۔ چین نے ردعمل میں کہا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ہندوستان سمیت کئی ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے

ڈونلڈ ٹرمپ
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر 145 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ "دن بھر مختلف ممالک سمجھوتہ کرنے کے لیے میرے پاس آتے ہیں، لیکن وقت کم پڑ جاتا ہے۔" ٹرمپ نے اسے تاریخ کا سب سے بڑا دن قرار دیا۔

یہ نیا ٹیرف اس سے قبل فینٹینائل دوا کی تیاری کے الزام میں لگائے گئے 20 فیصد اضافی ٹیرف کے ساتھ ملا کر 145 فیصد بنتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق، چین نے حال ہی میں امریکی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد امریکہ نے 125 فیصد ٹیرف لگا کر جواب دیا۔ اب اس میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دونوں ممالک اپنی پوزیشن پر قائم ہیں اور پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔


چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے 1953 کے جنگی دور کا حوالہ دیتے ہوئے ماؤ زے تنگ کی ایک ویڈیو شیئر کی اور کہا: "ہم چینی ہیں، ہم پیچھے نہیں ہٹتے اور نہ ہی کسی کے دباؤ میں آتے ہیں۔" ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ چین اپنے عوام کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور امریکہ کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔

ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ یورپی یونین نے بھی 90 دن کے لیے امریکی ٹیرف کے خلاف اپنے جوابی اقدامات روک دیے ہیں تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔

ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ چین کی معیشت عالمی سطح پر عدم توازن پیدا کر رہی ہے، اسی لیے ٹیرف میں اضافہ ناگزیر تھا۔ انہوں نے ہندوستان، جاپان اور جنوبی کوریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک چین کے قریبی ہیں اور امریکہ ان سے ٹیرف پر براہ راست بات چیت کر رہا ہے۔ بیسنٹ کے مطابق، جو ممالک آگے آ کر بات چیت کریں گے، ان کے لیے ٹیرف میں نرمی یعنی 10 فیصد تک کمی پر غور ہو رہا ہے۔


وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ دنیا اب چین کے بجائے امریکہ کی طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ دنیا کو امریکی منڈیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ "سودے کی سیاست" کو نظر انداز کر رہا ہے، جب کہ حقیقت میں عالمی سیاست کا محور اب امریکہ بن چکا ہے۔

یہ تجارتی کشیدگی نہ صرف امریکہ اور چین بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے، اور آئندہ دنوں میں اس کے مزید اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔