ایران معاہدہ ابھی حتمی نہیں، خلاف ورزی کی صورت میں دوبارہ بمباری کریں گے: ڈونالڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے شرائط پر عمل نہ کیا تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہے اور اس کی تکمیل کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔ کینیڈا میں منعقدہ جی-7 سربراہی اجلاس کے موقع پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط کی پابندی نہیں کرتا تو امریکہ دوبارہ سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے شدہ مفاہمت ابھی آخری مرحلے میں نہیں پہنچی اور کئی اہم معاملات پر مزید اتفاق رائے ضروری ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ امریکہ ایران کے لیے کسی سرمایہ کاری فنڈ کی اجازت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا اور نہ ہی ایسی کسی تجویز کی منظوری دی گئی ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق امریکہ کی بنیادی ترجیح مشرق وسطیٰ میں استحکام اور ایران کے جوہری پروگرام پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان رواں جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اسٹاک میں معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔ تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اتوار کو پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد حتمی معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔
قبل ازیں پیر کے روز ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں اور اس کا متن جلد جاری کر دیا جائے گا، تاہم اب ان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض نکات پر مزید بات چیت باقی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی اسی ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے۔
دریں اثنا جی-7 ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں ایران کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک مضبوط اور جامع سفارتی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن اور سلامتی کے قیام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے، تاہم پائیدار استحکام کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
