صدر ٹرمپ نے 2009 کا اہم ماحولیاتی فیصلہ کیا منسوخ، اوباما کی سخت تنقید

ٹرمپ نے 2009 کی ماحولیاتی اینڈینجرمنٹ فائنڈنگ منسوخ کر دی، جسے گاڑیوں اور صنعتی اخراج سے متعلق ماحولیاتی ضابطوں کی بنیاد قرار دیا جاتا تھا۔ اوباما نے فیصلے کو عوامی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نیویارک: ڈونالڈ ٹرمپ نے 2009 میں کیے گئے ایک اہم ماحولیاتی فیصلے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اب تک امریکہ میں ماحولیاتی ضابطوں کی قانونی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ اسی فیصلے کی بنیاد پر موٹر گاڑیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں پر قواعد نافذ کیے گئے تھے اور برقی گاڑیوں کے فروغ کی پالیسیاں ترتیب دی گئی تھیں۔

ٹرمپ نے یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے سربراہ لی زیلڈن کے ہمراہ کیا۔ انہوں نے اسے امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ضابطہ ختم کرنے والی کارروائی قرار دیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ وہ نام نہاد ’اینڈینجرمنٹ فائنڈنگ‘ کو ختم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اوباما دور کی ایک ناقص پالیسی تھی جس نے امریکی آٹو صنعت کو نقصان پہنچایا اور صارفین کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔


سنہ 2009 میں جاری کی گئی “گرین ہاؤس گیس اینڈینجرمنٹ فائنڈنگ” میں کہا گیا تھا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر چار گرین ہاؤس گیسیں انسانی صحت اور فلاح کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس فیصلے کو گاڑیوں کے اخراج کے معیارات اور فوسل فیول کمپنیوں کے لیے اخراج کی رپورٹنگ جیسے ضابطوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نہ تو ٹھوس سائنسی شواہد پر مبنی تھا اور نہ ہی مضبوط قانونی بنیاد رکھتا تھا۔ ان کے مطابق حیاتیاتی ایندھن نے نسلوں تک لاکھوں جانیں بچانے اور دنیا بھر میں اربوں لوگوں کو غربت سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

دوسری جانب براک اوباما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہی فیصلہ گاڑیوں کے دھوئیں اور بجلی گھروں سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کی بنیاد تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے عوام کم محفوظ اور کم صحت مند ہوں گے اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد مزید دشوار ہو جائے گی۔ اوباما نے الزام لگایا کہ اس فیصلے کو ختم کرنے کا مقصد صرف فوسل فیول صنعت کو فائدہ پہنچانا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔