گرین لینڈ پر کشیدگی میں اضافہ، وائٹ ہاؤس سے جاری پینگوئن کے ساتھ ٹرمپ کی اے آئی تصویر پر ہنگامہ
گرین لینڈ ڈنمارک انتظامیہ کے تحت نیم خودمختارعلاقہ ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد ڈنمارک اوراس کے کئی یورپی اتحادیوں نے گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جس سے دونوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یورپ سے متعلق مجوزہ ٹیرف کو عارضی طور پر روک دیا ہے لیکن گرین لینڈ میں ان کی دلچسپی برقرارہے۔ اس دوران ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس نے اے آئی سے تیار کردہ ایک تصویر شیئر کی جس میں 79 سالہ ٹرمپ کو پینگوئن کے ساتھ گرین لینڈ کی طرف چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تصویر کا عنوان ’پینگوئن کو گلے لگائیں‘ تھا۔ اس پوسٹ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کے حوالے سے امریکہ کے ارادوں کے بارے میں بین الاقوامی بحث چھیڑ دی ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے ڈونالڈ ٹرمپ عوامی طور پر یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ڈنمارک کو خبردار کیا تھا کہ اگر گرین لینڈ کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو امریکہ فوجی آپشنز پرغور کرسکتا ہے۔ گرین لینڈ اس وقت ڈنمارک انتظامیہ کے تحت ایک نیم خودمختارعلاقہ ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد ڈنمارک اور اس کے کئی یورپی اتحادیوں نے گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی، جس سے امریکہ اور یورپی تعلقات میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب ٹرمپ نے گرین لینڈ تنازعہ کو براہ راست طور پر جوڑتے ہوئے یورپی یونین کے 7 ممالک اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا۔ حالانکہ بعد میں یہ ٹیرف واپس لے لیا گیا۔ ٹرمپ نے یہ فیصلہ سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران نیٹو کے سربراہ مارک روٹے سے ملاقات کے بعد کیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے جلد ہی ایک فریم ورک سامنے لیا جائے گا جس سے امریکہ اور یورپ دونوں کو فائدہ ہوگا۔
ٹرمپ اس سے قبل گرین لینڈ کے حوالے سے اے آئی سے تیار تصاویر شیئر کر چکے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایک اور اے آئی تصویر پوسٹ کی تھی جس میں گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر میں جے ڈی وینس اور مارکو روبیو بھی نظر رہے تھے اور ٹرمپ کو امریکی پرچم نصف کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ مزید برآں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ’تروتھ سوشل‘ پر ایک اور اے آئی تصویر شیئر کی، جس میں ریاستہائے متحدہ کا توسیع شدہ نقشہ دکھایا گیا تھا جس میں گرین لینڈ، کینیڈا اور وینزویلا کو شامل کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اگست 2025 میں یورپی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران لی گئی تصویر سے اس تصویر کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ امریکہ کو گرین لینڈ کے لیے کوئی بھی قیمت نہیں چکانی پڑے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس نیم خودمختار علاقے کے لیے کیا قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں تو انھوں نے کہا کہ امریکہ صرف گولڈن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم بنائے گا اور یہ کافی ہوگا۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے سے امریکہ کو گرین لینڈ تک رسائی حاصل ہوگی خاص طور پر فوجی مقاصد کے لیے۔انہوں نےواضح الفاظ میں کہا کہ ہمیں بغیر کسی لاگت کے سب کچھ ملے گا جو ہم چاہتے ہیں۔
امریکی صدرکے متواتر بیانات اور ٹیرف کی دھمکیوں سے یورپ میں تشویش کاماحول پایا جارہا ہے۔ ہفتے کے آخر میں ٹرمپ نے 8 یورپی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی جس سے عالمی منڈیوں میں عدم استحکام دیکھا گیا۔ داؤس میں ایک گھنٹے سے زائد طویل خطاب کے دوران بھی انہوں نے گرین لینڈ معاملے کو زوروشور سے اٹھایا اور بعد میں نیٹو سربراہ سے ملاقات کرکے نئے سمجھوتے کی بات کہی حالانکہ ابھی تک تفصیلات منظرعام پر نہیں آئی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔