ایران بحران: ہلاکتوں اور پھانسیوں سے متعلق ٹرمپ کے دعوے، تہران کی تردید، امریکی فوجی کارروائی پر غیر یقینی برقرار

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں اور پھانسیاں روک دی گئی ہیں، مگر تہران نے امریکی فوجی دباؤ کے باوجود کسی کارروائی سے انکار کیا ہے اور حالات پر نظر رکھنے کی بات کی جا رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>ایران میں احتجاجی مظاہرہ کی فائل تصویر، سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ روک دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ اس معاملے پر نظر رکھے گا اور صورت حال کا جائزہ لیتا رہے گا۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایرانی عوام کی مدد کے بیانات دیے تھے اور کہا تھا کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ حقوقِ انسانی تنظیموں کے مطابق ان مظاہروں میں کم از کم 3428 افراد ہلاک ہوئے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ’دوسری جانب کے انتہائی اہم ذرائع‘ سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ قتل و غارت بند ہو چکی ہے اور پھانسیاں بھی نہیں دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج بڑی تعداد میں پھانسیوں کا خدشہ تھا، مگر اب ایسا نہیں ہوگا، تاہم امریکہ ان دعوؤں کی تصدیق کرے گا۔

اوول آفس میں ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات پر ابھی حتمی بات نہیں کی جا سکتی اور امریکہ حالات کا مشاہدہ کرے گا۔ بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک امریکی ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ آج یا کل کسی کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اسرائیل پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام لگایا، تاہم اس کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔


عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اقتصادی مشکلات کے خلاف شروع ہونے والے پرامن مظاہرے بعد میں بیرونی عناصر کی مداخلت کے باعث پرتشدد ہو گئے، جن کا مقصد امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنا تھا۔ ایرانی وزیر انصاف امین حسین رحیمی نے بھی کہا کہ 7 جنوری کے بعد ہونے والے واقعات کو احتجاج نہیں کہا جا سکتا اور اس دوران گرفتار ہونے والے افراد مجرم تھے۔

ایک حقوقی ادارے نے بتایا کہ مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے 26 سالہ عرفان سلطانی کی متوقع پھانسی ملتوی کر دی گئی ہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی قیادت نے اعلان کیا کہ سلامتی کونسل ایران کی صورت حال پر اجلاس منعقد کرے گی۔ ایران نے کسی بھی امریکی حملے کا سخت جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور کئی ممالک نے سفارتی و فضائی اقدامات کیے ہیں۔