ٹیرف پر ’سپریم‘ فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ پریشان، ہندوستان سمیت 16 تجارتی شراکت داروں کے خلاف جانچ شروع
نئی ٹریڈ جانچ کے دائرے میں ہندوستان، چین اور بنگلہ دیش سمیت 16 بڑے تجارتی شراکت داروں کو شامل کیا گیا ہے۔ پرانے قانون کے سیکشن 301 کے تحت امریکہ کسی بھی ملک پر ٹیرف یعنی درآمدی ٹیکس بڑھا سکتا ہے

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف نظام کو منسوخ کئے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی مینوفیکچرنگ کے حوالے سے نئی تجارتی تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ اس قدم کو ان اربوں ڈالر کے ریونیو کی بھرپائی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے جسے عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت کو کھونا پڑا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے بدھ کو یہ تحقیقات ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 301 کے تحت شروع کی ہے۔ اس عمل کے تحت غیر ملکی کمپنیوں اور ممالک کی صنعتی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد ان پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) لگائے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی نئی ٹریڈ جانچ کے دائرے میں ہندوستان، چین اور بنگلہ دیش سمیت 16 بڑے تجارتی شراکت داروں کو شامل کیا گیا ہے۔ پرانے قانون کے سیکشن 301 کے تحت امریکہ کسی بھی ملک پر ٹیرف یعنی درآمدی ٹیکس بڑھا سکتا ہے۔ یہ قدم امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کو ملک کی سپریم کورٹ کے ذریعہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کئے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ جس کے بعد اب امریکہ نئی جانچ کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ اگر تحقیقات میں گڑبڑی پائی جاتی ہے تو کئی ممالک پر نئے ٹیرف لگائے جا سکتے ہیں۔ اس سے متاثر ہونے والے ممالک میں چین، یورپی یونین، ہندوستان، جاپان، جنوبی کوریا اور میکسیکو شامل ہیں۔ جانچ کا مقصد ان ممالک کو دیکھنا ہے جن کے پاس پیداواری صلاحیت زیادہ ہے یا جو لگاتار بڑے تجارتی سرپلسز کے ساتھ امریکہ کو سامان فروخت کرتے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ملکی صنعت کو نقصان ہوسکتا ہے۔
اس تحقیقات میں شامل دیگر ممالک میں تائیوان، ویت نام، تھائی لینڈ، ملیشیا، کمبوڈیا، سنگاپور، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سوئٹزرلینڈ اور ناروے شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر کینیڈا اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایک الگ تحقیقات شروع کر نے جارہا ہے جس میں ان مصنوعات کی درآمد پر روک لگانے کا امکان تلاش کیاجائے گا جو جبراً لیبر سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ جانچ 60 سے زیادہ ممالک کا احاطہ کر سکتی ہے۔
امریکہ نے اس سے قبل بھی چین کے سنکیانگ علاقے سے آنے والے سولر پینلز اور دیگر مصنوعات کے خلاف کارروائی کی تھی۔ یہ کارروائی ایغور فورسڈ لیبر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت کی گئی جس کی توثیق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران ہوئی تھی۔ امریکہ کا الزام ہے کہ چین کے علاقے سنکیانگ میں ایغور مسلم کمیونٹی کے لوگوں سے جبراً کام کرایا جاتا ہے۔ تاہم چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس جانچ کے لیے تیز ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ 15 اپریل تک عوامی تبصرے طلب کیے جائیں گے اور 5 مئی کے آس پاس عوامی سماعت ہوگی۔ اس کے بعد جولائی تک جانچ مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس اقدام کو ٹرمپ انتظامیہ کے امریکی تجارتی خسارے کو کم کرنے اور گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنے کے بڑے ہدف کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔