افغانستان سے امریکی انخلا کی تکمیل پر طالبان کا خیرمقدم، صدر بائیڈن عوام سے خطاب کریں گے

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر لکھا ’’افغانستان میں امریکی فوجیوں کا آخری دستہ پیر کی نصف شب کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوگیا، اس طرح ہمارا ملک مکمل طور پر آزاد ہو گیا ہے‘‘

ذبیح اللہ مجاہد / Getty Images
ذبیح اللہ مجاہد / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

کابل: طالبان نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی مکمل ہونے کا خیرمقدم کیا ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان نے منگل کی صبح یہ اطلاع دی۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان سے اس کی افواج واپسی مکمل ہوگئی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر لکھا ’’افغانستان میں امریکی فوجیوں کا آخری دستہ پیر کی نصف شب کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوگیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس طرح ہمارا ملک مکمل طور پر آزاد ہو گیا ہے‘‘۔

ادھر، امریکہ افغانستان سے اپنی فوجی افواج اور اہلکاروں کا انخلا مکمل کرنے کے بعد، اس ملک کے لیے اپنے سفارتی کام قطر کے دارالحکومت دوحہ سے چلائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ اطلاع دی۔ بلنکن نے کہا کہ ’’ہم نے کابل میں اپنی سفارتی موجودگی معطل کر دی ہے اور اسے دوحہ، قطر منتقل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جلد ہی کانگریس کو اس سے مطلع کیا جائے گا۔


انہوں نے کہا ’’ہم دوحہ سے افغانستان کے لئے سفارت خانے کے معاملوں، انسانی امداد سے متعلق کاموں کوچلائیں گے، طالبان کے ساتھ رابطے اور پیغام دینے سے متعلق ہم آہنگی کے لئے اتحادیوں، شراکت داروں، علاقائی اور بین الاقوامی فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں گے‘‘۔

امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ منگل (31 اگست) تک افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہو جائے گا۔ ڈیڈ لائن سے ایک دن پہلے پیر کی رات افغانستان سے امریکی فوجیوں اور غیر فوجی اہلکاروں کے آخری دستہ لے کر ایک امریکی طیارہ کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوا۔ جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی مکمل ہونے کے تعلق سے منگل کو ملک کے لوگوں سے خطاب کریں گے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔