لبنان: ’انقلابی قافلہ‘ شمال سے جنوب کی جانب روانہ

جلوس کا سفر جنوب میں صیدا کے راستے ہوتے ہوئے صور پہنچ کر مکمل ہو گا۔ یہاں پر شمالی اور جنوبی لبنان کے عوام کا ایک بڑا جسلہ منعقد ہوگا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لبنان میں عوام کی جانب سے انقلابی تحریک جاری ہے۔ ہفتے کی صبح ملک کے شمال میں واقع علاقے عکار سے ’انقلابی جلوس‘ روانہ ہوا۔ ملک کے شمال سے جنوب تک پہنچنے کے دوران یہ جلوس 12 مقامات کو عبور کرے گا۔ جلوس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سرگرمی کا مقصد احتجاج کے تمام مقامات سے گزرنا ہے۔ جلوس کا سفر جنوب میں صیدا کے راستے ہوتے ہوئے صور پہنچ کر مکمل ہو گا۔ یہاں پر شمالی اور جنوبی لبنان کے عوام کا ایک بڑا جلسہ منعقد ہوگا۔

مذکورہ انقلابی جلوس کے قافلے میں متعدد گاڑیاں شریک ہیں۔ اس کا مقصد "قومی یکجہتی کے پُل" کی سی تصویر پیش کرنا ہے اور ایک ملک کے باسیوں کے درمیان فرقہ واریت کی دیوار کو ختم کرنا ہے۔ دوسری جانب سیاسی طور پر سعد حریری کے استعفے کو دو ہفتے گزر جانے کے باوجود ابھی تک لبنان میں حکومت کا انتظام معلق ہے۔

اس سے قبل جمعے کو سابق وزیر خزانہ محمد صفدی کا نام نئی حکومت کی سربراہی کے لیے پیش کیا گیا۔ اس بات کا انکشاف وزیر خارجہ جبران باسیل نے کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وہ دباؤ کے تحت اس اعلان سے پیچھے ہٹ جانے پر مجبور ہو گئے۔ اس لیے کہ ماضی میں وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے والی شخصیات فؤاد السنیورہ، نجیب میقاتی اور تمام سلام نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل کی ذمے داری ایک بار پھر مستعفی وزیراعظم سعد حریری کو سونپی جائے۔

ادھر حریری کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے فقط صفدی کا نام پیش نہیں کیا گیا بلکہ اس سلسلے میں دیگر نام بھی زیر غور ہیں۔ جمعے کی شام ریپبلکن پیلس کے مقرب ذرائع کے حوالے سے العربیہ کے سامنے یہ بات آئی تھی کہ اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور مشاورت کی تاریخ ابھی تک مقرر نہیں ہوئی۔ اس سے قبل صفدی کے مقرب ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا تھا کہ اگر سابق وزیر خزانہ کی نامزدگی پر اتفاق رائے ہو گیا تو وہ اس ذمے داری کو اٹھانے میں ہر گز پس و پیش نہیں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق صفدی کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے حکومت تشکیل دی تو وہ عوامی مطالبات کی خطوط پر کام کرے گی۔ حکومت بدعنوانی کے انسداد اور سرکاری مال کے ضیاع کو روکنے کے حوالے سے عوام کی توقعات پر پورا اترے گی۔ ساتھ ہی عوام کی معاشی اور اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے پر کام کرے گی جو کہ لبنانیوں کے سڑکوں پر آنے کی اولین وجہ ہے۔

دوسری جانب انقلابی تحریک کے سلسلے میں "لحقی" گروپ نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سڑکوں کی بندش کے مرحلے میں داخل ہو جائیں جس پر روزانہ صبح 6 بجے سے دوپہر 11 بجے تک عمل درآمد کیا جائے گا۔ مذکورہ گروپ نے زور دیا ہے کہ 17 اکتوبر کی انقلابی تحریک کے آغاز کو ایک ماہ گزرنے پر کل 17 نومبر بروز اتوار بیروت، طرابلس اور دیگر شہروں میں میدانی مقامات اور کھلے علاقوں کو عوامی احتجاج کے لیے مظاہرین سے بھر دیا جائے۔

(شکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: 16 Nov 2019, 11:11 PM