پاکستان میں ڈینگو متاثرین کے تعداد 10ہزار سے متجاوز

پاکستانی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر مرزا نے بتایا کہ اس سال ملک میں ڈینگوکے 10 ہزار 13 کیس اب تک سامنے آ چکے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ گزشتہ برسوں میں اس سال کے مقابلے میں ڈینگی کے معاملے زیادہ ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان میں ڈینگو بخار نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے۔ ڈینگو سے متاثرین کی تعداد 10 ہزار سے متجاوز کر گئی ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ 10 دنوں میں اس جان لیوا بخار کے معاملے اور بھی بڑھیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے امور کے معاون خصوصی ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ڈینگو بخار کے اعداد و شمار پانچ فیگر کو پار کر گیا ہے اور اگلے 10 دنوں میں یہ تعداد اور بڑھے گی۔

ڈاکٹر مرزا نے اتوار کو پریس کانفرنس میں بتایا ’’گرمی میں کمی شروع ہونے پر اگلے ماہ ڈینگو کنٹرول میں آ جائے گا۔ میں نے محسوس کیا کہ سیاستداں ٹیلی ویژن شو کے دوران ڈینگو کے معاملہ کو نمایاں طور سے اٹھا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو میرا مشورہ ہے کہ ڈینگو مسئلہ پر سیاست نہ کریں یہ صحت عامہ سے منسلک معاملہ ہے‘‘۔

پاکستان میڈیا کے مطابق ڈاکٹر مرزا نے بتایا کہ اس سال ملک میں ڈینگوکے 10 ہزار 13 کیس اب تک سامنے آ چکے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ گزشتہ برسوں میں اس سال کے مقابلے میں ڈینگی کے معاملے زیادہ ہیں۔

اس سال کے ڈینگو کے اعداد و شمار دیتے ہوئے ڈاکٹر مرزا نے بتایا ’’پنجاب میں 2363، سندھ میں 2258، خیبر پختون خوا میں 1814 اور بلوچستان میں 1772 معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ دوسرے معاملے دارالحکومت اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں سے ہیں۔ وفاقی حکومت ڈینگو کے کنٹرول کے لئے صوبائی حکومتوں سے رابطے کیے ہوئے ہیں اور ڈینگو کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں‘‘۔

پاکستان میں ڈینگو تیزی سے پھیلنے پر اپوزیشن پارٹیاں حکومت پر حاوی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ڈینگو کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہنے پر وفاقی حکومت، پنجاب کے وزیر اعلی، صوبائی وزراء اور مشیر سے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔ اورنگ زیب نے کہا ’’یہ پہلی حکومت ہے جو اپنی نااہلی کی تفصیلات دے رہی ہے۔ وزیر اعلی، وزراء اور مشیر کو ڈینگو متاثرین کی تعداد بتانے کے بجائے استعفی دینا چاہیے۔ کچھ افسران اپنی نااہلی کو چھپا نہیں سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وزیر اعلی، وزراء اور مشیر کو اسپتالوں میں اپنے دفتر بنانے چاہیے اور ملک بھر میں ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے۔

انہوں نے کہا’’پریس کانفرنس سے ڈینگو کنٹرول نہیں ہونے والا۔ ڈینگو کے مریضوں کو مفت ٹسٹ اور دوائیاں دستیاب کرانی چاہیے۔ پریس کانفرنس کرکے اخراجات نہیں بڑھانا چاہیے۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت نے شہباز شریف کے ساتھ اپنی دشمنی کی وجہ سے ڈینگو پروگرام کو بند کر دیا‘‘۔

next