طیب ایردوآن کے نئے معاشی اقدامات کا اثر، ترک کرنسی کی قدر میں تیزی سے اضافہ

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ایک فیصلہ کے بعد راتوں رات ترکی کی کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلہ تقریباً 25 فیصد مضبوط ہو گئی

ترک صدر رجب طیب ایردوآن / تصویر یو این آئی
ترک صدر رجب طیب ایردوآن / تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

انقرہ: ترک کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کے بعد ترک صدر کے نئے معاشی اقدامات کے نتیجے میں لیرا کی قدر میں 25 فیصد تک اضافہ ہو گیا۔ نئی معاشی پالیسی میں ترک صدر کی جانب سے ملکی ڈپازٹ کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ لیرا کا بحران ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ایک فیصلہ کے بعد راتوں رات ترکی کی کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلہ تقریباً 25 فیصد مضبوط ہو گئی۔ پیر کے روز لیرا میں تاریخی 44 فیصد گراوٹ درج کی گئی تھی اور یہ اپنی کم از کم سطح پر آ گئی تھی۔

لیرا کی قیمت میں مسلسل کمی کے باعث ترک صدر کی اقتصادی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ان تنقیدوں کے درمیان صدر ایردوآن نے پیر کی شام اعلان کیا کہ وہ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ لیرا میں بچت کرنے والوں کو زوال کے دوران کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ دراصل لیرا کی کمزور ہوتی حالت کی وجہ سے لوگوں نے ڈالر خریدنا شروع کر دیا تھا اور اس سے ڈالر کی طب میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ ایسی صورت حال میں لیرا کی پوزیشن مزید کمزور ہو جاتی اور ایردوآن کے لیے اس صورت حال کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج تھا۔

ایردوآن نے کہا کہ لوگ لیرا کے بجائے ڈالر میں بچت کرنا چھوڑ دیں۔ ترک صدر نے اپنے شہریوں سے وعدہ کیا کہ حکومت شرح مبادلہ میں اضافے کے باوجود لیرا میں بچت کرنے والوں کے نقصان کی تلافی کرے گی۔


ان کے اعلان کے بعد ڈالر کے مقابلے لیرا کی قیمت میں اچانک اضافہ نظر آنے لگا۔ ایردوآن کے اس اعلان سے پہلے ایک ڈالر کے مقابلے لیرا کی قیمت 18.4 تھی۔ اس فیصلے کے بعد ایک ہی دن میں ڈالر کے مقابلے لیرا کی قیمت میں 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ایک ہی دن میں لیرا کی قیمت میں اتنا اضافہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔

ترک بینکس ایسوسی ایشن کے مطابق ایردوآن نے جیسے ہی اس اقدام کا اعلان کیا لوگوں نے مارکیٹ میں تقریباً ایک ارب ڈالر کو فروخت کر کے لیرا خرید لیا۔

خیال رہے کہ ایردوآن تمام تر تنقید کے باوجود شرح سود میں کمی کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے مہنگائی کی شرح قابو میں رہے گی۔ تاہم لیرا کی خستہ حالی کا ذمہ دار ایردوآن کی مفاداتی پالیسی کو قرار دیا جا رہا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔