ٹرمپ کی پالیسیاں اور عالمی طاقت کا تبدیل شدہ توازن...اشوک سوین
ٹرمپ کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور مغربی ایشیا کی جنگ نے امریکہ کی عالمی ساکھ کو کمزور کیا، جبکہ چین کو فائدہ پہنچا۔ یہ تبدیلی عالمی طاقت کے توازن کو بیجنگ کے حق میں موڑ رہی ہے

امریکہ کو توسیع پسندی کی جو قیمت چکانی پڑ رہی ہے، وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار نے اس پردے کو مکمل طور پر ہٹا دیا ہے جس کے پیچھے امریکہ برسوں سے اپنی عالمی حکمتِ عملی کو چھپاتا آیا تھا۔ ماضی میں امریکی حکومتیں اپنی پالیسیوں کو "جمہوریت کے تحفظ" اور "قواعد پر مبنی عالمی نظام" کے خوبصورت نعروں میں پیش کرتی تھیں، مگر اب یہ سب کچھ ایک کھلے اور بے لاگ لین دین کے انداز میں تبدیل ہو چکا ہے۔
یہ تبدیلی معمولی نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی اور عملی موڑ ہے، جو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین عالمی سطح پر تیزی سے ابھر رہا ہے اور امریکی برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لیے جو جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی گئی، اس نے الٹا امریکہ کی کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور اس کے حریف کو مضبوط ہونے کا موقع دیا ہے۔
ٹرمپ کے نظریۂ قومی سلامتی میں چین کو اب کسی نظریاتی دشمن کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اسے صرف ایک معاشی حریف سمجھا جاتا ہے۔ اس سوچ نے ان اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے جو کبھی امریکہ کی عالمی قیادت کی بنیاد تھے، جیسے جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی انصاف۔ اب ترجیح صرف معاشی مفادات اور تحفظ پسندانہ پالیسیوں کو دی جا رہی ہے، جس سے امریکہ کی عالمی اپیل اور اخلاقی برتری میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ٹرمپ کے حامی اس تبدیلی کو عملی اور حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہیں، خاص طور پر "امریکہ فرسٹ" اور "میگا" نظریات کے تناظر میں۔ تاہم، اس طرزِ فکر کی اصل قیمت امریکہ کو اپنی عالمی ساکھ اور اثر و رسوخ میں کمی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔
مزید برآں، نئے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش اور مغربی نصف کرے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے دعوے نے امریکہ کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ اقتصادی دباؤ اور فوجی طاقت کے ذریعے اپنی برتری قائم کرنے کی کوشش ایک نئے طرز کے سامراجی رویے کی عکاسی کرتی ہے، جو آج کے عالمی نظام کی حقیقتوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
آج کے دور میں عالمی اثر و رسوخ کا تعین فوجی موجودگی سے زیادہ اقتصادی تعلقات، سرمایہ کاری اور طویل مدتی شراکت داری سے ہوتا ہے۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ جیسے خطوں میں چین نے اسی حکمتِ عملی کے ذریعے اپنا اثر بڑھایا ہے۔ اس کے برعکس، امریکہ کی سخت اور دباؤ پر مبنی پالیسیاں ان ممالک کو مزید چین کے قریب لے جا رہی ہیں۔
ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا اور خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا تھا، مگر یہ ایک طویل اور غیر یقینی تنازع میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ایران اس جنگ میں ایک غیر روایتی حکمتِ عملی کے تحت اپنے مفادات کا دفاع کر رہا ہے، جس سے امریکہ کو فوری کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
اس جنگ کے امریکہ کے لیے کئی اسٹریٹجک نقصانات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس سے نہ صرف اس کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی قیادت کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ مزید یہ کہ امریکہ کو اپنی فوجی اور سیاسی توجہ مغربی ایشیا میں مرکوز کرنی پڑ رہی ہے، جس سے اس کی ایشیا-بحرالکاہل خطے میں سرگرمی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ صورتحال چین کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عراق اور افغانستان میں امریکہ کی مصروفیات کے دوران چین نے خاموشی سے اپنی پوزیشن مضبوط کی تھی۔ آج بھی ایک مشابہ صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے، مگر اس بار چین پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
ایران جنگ کے حوالے سے چین کا ردِ عمل نہایت محتاط اور سوچا سمجھا رہا ہے۔ اس نے براہِ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے اپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھا ہے اور بیک وقت ایران کو خفیہ معلومات فراہم کر کے اس کی مدد بھی کی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے چین بغیر کسی بڑے نقصان کے امریکہ کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
یہ جنگ چین کے اس بیانیے کو بھی تقویت دیتی ہے کہ امریکہ ایک غیر مستحکم اور جارحانہ طاقت ہے۔ اس تاثر کے نتیجے میں دنیا کے وہ ممالک جو مغربی غلبے سے نجات چاہتے ہیں، چین کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اس طرح یہ تنازع صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے ان پیچیدہ حالات کو مزید الجھا دیا ہے۔ نیٹو اور کواڈ جیسے اہم اتحادوں کو کمزور کرنے کی کوشش اور یکطرفہ فیصلے کرنے کی عادت نے امریکہ کے روایتی اتحادیوں کو بھی غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین کے حوالے سے متضاد رویہ—کبھی سختی اور کبھی نرمی—امریکی پالیسی کو غیر واضح بنا دیتا ہے۔
اس غیر مستقل مزاجی نے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کی پالیسیوں کی تاثیر کو کم کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب امریکہ خود کو عالمی نظام کا محافظ اور اصولوں کا علمبردار قرار دیتا تھا، مگر اب یہ دعویٰ کمزور پڑ چکا ہے۔
ایران جنگ کو عالمی سطح پر ایک یکطرفہ اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے امریکہ کے ارادوں پر مزید شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ جیسے جیسے یہ تاثر مضبوط ہوگا، ویسے ویسے امریکہ کی عالمی قیادت کمزور ہوتی جائے گی اور چین کو ایک متبادل عالمی نظام قائم کرنے کا موقع ملے گا۔
ٹرمپ کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ان کی پالیسیاں ایک غیر منصفانہ عالمی نظام کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کی حکمتِ عملیوں نے تجارتی اور تکنیکی عدم توازن کو دور کرنے میں ناکامی دکھائی تھی۔ ان خدشات میں کچھ وزن ضرور ہے، مگر اصل مسئلہ ان پالیسیوں کے غیر متوقع نتائج میں پوشیدہ ہے۔
جب ایک طاقت اپنے نظریاتی اصولوں کو ترک کر دیتی ہے، تو وہ اپنی اخلاقی بنیاد بھی کھو دیتی ہے۔ توسیع پسندی اور مسلسل جنگوں میں الجھ کر امریکہ نہ صرف اپنی طاقت کو کمزور کر رہا ہے بلکہ اپنے حریفوں کو مضبوط ہونے کا موقع بھی دے رہا ہے۔
مختصر یہ کہ قلیل مدتی برتری حاصل کرنے کی کوشش میں امریکہ ایک ایسے راستے پر گامزن ہو چکا ہے جو طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف اس کی عالمی حیثیت کو کمزور کر رہی ہے بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہے جس میں طاقت کا توازن اس کے ہاتھ سے نکل کر چین کے حق میں جاتا دکھائی دیتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔