مغربی ایشیا میں انتہا کو پہنچی کشیدگی! کویت کے پاور پلانٹ پر ایران کا حملہ، ایک ہندوستانی کی موت

اس دوران کویت کی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور افواہوں سے گریز کریں۔ حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی صورت میں بجلی اور پانی کی فراہمی میں خلل نہیں ڈالا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی میزائل حملے(فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے حملے کے بعد جوابی کارروائی کے تحت تہران کی طرف سے خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کڑی میں ایران نے کویت میں پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے جس میں ایک ہندوستانی شہری کی موت ہوگئی۔ کویت کی بجلی، پانی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت نے پیر کو کہا کہ اتوار کی شام ہونے والے اس حملے میں ایک بڑے پاور اینڈ واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کی سروس بلڈنگ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس میں وہاں کام کرنے والا ایک ہندوستانی ملازم ہلاک اورعمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

وزارت کے ترجمان کے مطابق یہ حملہ امریکی ایئر بیس اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایرانی جوابی کارروائی کا حصہ تھا۔ حملے کے فوری بعد تکنیکی اور ہنگامی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں اور صورتحال کو سنبھالنے اور پلانٹ کی بحالی کے لیے کام شروع کر دیا۔ یہ کام سیکورٹی ایجنسیوں اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے اور ضروری خدمات کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔


اس دوران کویتی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور افواہوں سے گریز کریں۔ حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی صورت میں بجلی اور پانی کی فراہمی میں خلل نہیں ڈالا جائے گا۔ ٹیمیں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں اور کسی بھی صورت حال کے لیے تیار ہیں۔

دریں اثنا لبنان میں بھی تناؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ جنوبی لبنان کے علاقے عدچیت القصیر میں اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن دستے (یواین آئی ایف آئی ایل) کے اڈے پر راکٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک امن فوجی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ یواین آئی ایف آئی ایل نے کہا کہ اس پروجیکل کی اصلیت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تنظیم نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے ہوئے جانوں کا ضیاع ایک سنگین معاملہ ہے۔ یواین آئی ایف آئی ایل نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور امن فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ جان بوجھ کر امن دستوں پر حملہ کرنا جنگی جرم تصور کیا جا سکتا ہے۔