فرانس اور اٹلی میں تناؤ: دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ واپس بلایا سفیر

سال 1940 میں مسولنی کے ذریعہ اعلان جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب فرانس نے اٹلی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب فرانس اور اٹلی کے مابین تناؤ اپنے عروج پر ہے ، دونوں کے درمیان تلخیاں مزید بڑھ رہی ہیں ۔ بڑھتے تناؤ کے درمیان فرانس نے انتہائی سخت قدم اٹھاتے ہوئے روم سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے ۔سال 1940 میں جب اٹلی کے فاشسٹ رہنما مسولنی کے ذریعہ جنگ کا اعلان کیا گیا تھا اس کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب فرانس نے اس طرح کا سخت قدم اٹھایا ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے اس تعلق سے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی کی جانب سے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں اور اٹلی کے اس رویہ کی وجہ سے ہی اتنا سخت قدم اٹھایا گیا ہے۔

واضح رہے اٹلی کے مقبول رہنما اور نائب وزیر اعظم موتیو سالونی اور فرانس کے صدر امینوئل میکرون کے درمیان ذاتی الزامات کے درمیان یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔ موتیو سالونی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ فرانس کے عوام جلد ہی ایک خوفناک صدر سے چھٹکارا پا لیں گے ۔ دوسری جانب فرانس کے صدر امینوئل میکرون نے ابھرتی ہوئی قوم پرستی کی تشبیہ مرض جزام سے کی ہے اور کہا کہ اگر موتیو سالونی ان کو اپنا دشمن تسلیم کرتے ہیں تو وہ صحیح ہیں۔

اس دوران اٹلی کے لوئیز دے مایو نے حال ہی میں ٹوئٹر پر فرانس حکومت کے خلاف ’یلو ویسٹ‘ مظاہرین سے ملتے ہوئے اپنے رہنماؤں کے ساتھ تصویریں جاری کی تھیں ۔ ان تصویروں کے سامنے آنے کے بعد فرانس نے کہا تھا کہ اٹلی کو ان کے اندرونی معاملوں میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

واضح رہے دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کا تناؤ کوئی نئی بات نہیں ہے گزشتہ سال ماہ جون2018 سے دونوں کے درمیان کڑواہٹ شروع ہو گئی تھی۔

Published: 11 Feb 2019, 3:09 PM