طارق رحمٰن آج بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کی حیثیت سے لیں گے حلف، دہائیوں پرانی روایت ٹوٹے گی
طارق رحمٰن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے طور پر آج حلف لیں گے۔ نئی حکومت کو کمزور معیشت، ادارہ جاتی دباؤ اور امن و امان کی صورتحال جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا
نئی دہلی: بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات میں نمایاں کامیابی کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے صدر طارق رحمٰن منگل کے روز وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس بار حلف برداری کی تقریب روایتی مقام بنگ بھون کے بجائے جاتیہ سنسد کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد کی جائے گی، جسے ملک کی سیاسی روایت میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صدر محمد شہاب الدین شام 4 بجے نئے وزرا کو حلف دلائیں گے، جب کہ صبح کے وقت چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین 297 نومنتخب اراکین پارلیمان سے حلف لیں گے۔ حلف برداری سے قبل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوگا جس میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اپنے قائد کا باضابطہ انتخاب کرے گی اور اس کے بعد صدر انہیں حکومت سازی کی دعوت دیں گے۔
انتخابات میں پارٹی نے 209 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جب کہ جماعت اسلامی نے 68 نشستیں جیتیں۔ عوامی لیگ کو اس انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جس کے باعث سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کی جگہ طارق رحمٰن پہلی مرتبہ وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
انتخابات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طارق رحمٰن نے قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت کمزور حالت میں ہے، ریاستی ادارے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور امن و امان کی صورتحال چیلنج بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاشرے میں تقسیم گہری ہوئی تو جمہوری نظام متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق نئی حکومت کو سب سے پہلے اقتصادی بحالی، ادارہ جاتی استحکام اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : یہ جیت بنگلہ دیش، جمہوریت اور عوامی امیدوں کی ہے: طارق رحمٰن
حلف برداری کی تقریب میں تقریباً 1200 ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ہندوستان کی نمائندگی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کریں گے، جب کہ مالدیپ، ترکیے اور سری لنکا کے اعلیٰ نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ تقریب نہ صرف اقتدار کی منتقلی بلکہ بنگلہ دیش کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی، جہاں نئی قیادت کو فوری اور مؤثر فیصلوں کے ذریعے عوامی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔