طالبان-امریکہ کے درمیان مُذاکرات بحالی کی کوششیں

دوحہ میں موجود طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف ملاعبد الغنی کی سربراہی میں طالبان وفد پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد پہنچا جبکہ امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد ایک روز پہلے اس سلسلہ میں پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

اسلام آباد: شورش زدہ افغانستان میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری تنازع کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ازسر نو کوشش کے تحت پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کے لئے ان کے نمائندوں کی میزبانی کی۔

مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف ملا عبد الغنی کی سربراہی میں طالبان وفد حکومت پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد پہنچا جبکہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد ایک روز پہلے اس سلسلہ میں پاکستان پہنچ چکے تھے۔

روزنامہ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے ایک بیان میں طالبان کے سیاسی گروپ کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ طالبان امریکہ امن مذاکرات کے تحت اب تک ہونے والی پیش رفت پر نظر ثانی کرنے اور افغان مفاہمتی عمل کو بحال کرنے کا موقع ہے‘‘۔

خیال رہے کہ دونوں وفود آئندہ کچھ روز تک اسلام آباد میں رہیں گے، اس دوران الگ الگ پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور مذاکرات کی بحالی پر سمجھوتہ ہونے کی صورت میں آپس میں بھی ملاقات کرسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ’’اگر زلمے خلیل زاد یہاں موجود ہیں اور ملنا چاہتے ہیں تو ہم بھی اس کے لئے تیار ہیں‘‘۔

تاہم دورے کے بارے میں دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں محض یہ کہا گیا کہ دونوں وفود پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کا انتظام کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک سینئر سفارتی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندوں اور طالبان وفد کا دورہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کی بحالی کا پیش خیمہ ہے۔

اسی حوالہ سے ایک اور سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ طالبان امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے خواہشمند ہیں تاہم امریکہ افغانستان میں جنگ بندی اور افغان حکومت کی شمولیت کی شرائط پر مذاکرات بحال کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ کے ساتھ ہونے والے ممکنہ سمجھوتے میں طالبان کے موقف کے حوالہ سے سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، ہم وہیں ہیں جہاں تھے، جہاں تک ہمارے تحفظات کی بات ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرافٹ ہونے والے سمجھوتے میں ہمارے تمام تر تحفظات کا خیال رکھا گیا ہے جس میں غیر ملکی افواج کو انخلا کی صورت میں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے ساتھ اس بات کی یقین دہانی شامل ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

Published: 3 Oct 2019, 11:10 AM