کم جارحیت والے علاقوں میں شامی شہر تباہ ہو چکے ہیں: سلامتی کونسل

اقوام متحدہ میں انسانی اور امدادی امور کے سکریٹری مارک لوکوک کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے ادلب میں “کم جارحیت والے علاقوں” میں بعض شہر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اقوام متحدہ میں انسانی اور امدادی امور کے سکریٹری مارک لوکوک کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے ادلب میں "کم جارحیت والے علاقوں" میں بعض شہر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ادلب کی صورت حال کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران لوکوک نے مزید کہا کہ شہری علاقوں کو تباہ کرنے کا کوئی سبب اور جواز نہیں جیسا کہ ادلب میں دیکھا جا رہا ہے۔

لوکوک نے باور کرایا کہ اقوام متحدہ الرکبان کے علاقے میں رکنے کا فیصلہ کرنے والوں کے لیے انسانی امداد پیش کرے گی۔ انہوں بتایا کہ حالات زندگی بہتر ہونے کے حوالے سے نا امیدی کا شکار ہونے والے بہت سے لوگ الرکبان سے کوچ کر گئے ہیں۔

اجلاس میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جیر پیڈرسن نے کہا کہ سیاسی حل کے راستے پر گامزن رہنے کے لیے ادلب میں حالات کو پھر سے پرسکون بنایا جانا چاہیے۔ پیڈرسن نے بتایا کہ وہ جلد ایران کا دورہ کریں گے اور انہیں امید ہے کہ وہ شامی بحران کے حل کے سلسلے میں ایران کی سپورٹ حاصل کر لیں گے۔ پیڈرسن نے اس امید کا اظہار کیا کہ سیاسی کوششیں ادلب میں دوبارہ سے سکون لانے میں کامیاب رہیں گی۔

سفارت کاروں کے مطابق رواں ہفتے کے دوران سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان ایک قرارداد کے منصوبے پر بحث کا آغاز ہوا۔ کویت، جرمنی اور بیلجیم کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد میں شام کے صوبے ادلب میں فائر بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد کے مقاصد میں شام کے شمال مغرب میں واقع اس علاقے میں طبی مراکز اور تنصیبات پر حملوں کا روکا جانا بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہریوں اور طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

یہ پیش رفت جمعرات کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس میں شام میں انسانی صورت حال سے متعلق رپورٹوں اور اقوام متحدہ کے ایلچی جیر پیڈرسن کی جانب سے پیش کی جانے والی سیاسی وساطت کا جائزہ لیا گیا۔ ایک مغربی سفارت کار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ "ہمیں ایک ٹھوس فیصلے کی ضرورت ہے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کے خلاف کارروائیاں روکنے کے لیے روس کو ایک کنارے لگانا ہو گا۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں روس نے سلامتی کونسل میں شام کے حوالے سے قرار دادوں کی منظوری روکنے کے واسطے کئی مرتبہ ویٹو کا حق استعمال کیا ہے۔ رواں سال جولائی کے اواخر میں سلامتی کونسل کے دس رکن ممالک نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات میں مطالبہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے سپورٹ یافتہ تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں۔ یہ دس ممالک جرمنی، فرانس، بیلجیم، برطانیہ، امریکا، انڈونیشیا، کویت، پیرو، پولینڈ اور ڈومینیکن ریپبلک ہیں۔

Published: 30 Aug 2019, 1:10 PM