شام سے ’داعش کی کہانی ختم‘؟

امریکی حمایت یافتہ شامی فورسز نے ہفتے کے روز ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی خودساختہ ’خلافت‘ کے زیر قبضہ آخری علاقے کی آزادی اور اس گروہ کی مکمل شکست کا اعلان کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

شدت پسند گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے سن 2014ء میں شام اور عراق کے ایک وسیع تر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور خودساختہ ’خلافت‘ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز ہفتے کو کرد قیادت میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے شام میں اس گروہ کے خلاف مکمل فتح کا اعلان کیا۔

مشرقی شامی علاقہ باغوز وہ آخری علاقہ تھا، جو اس شدت پسند تنظیم کے قبضے میں تھا جب کہ کئی ماہ سے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے اس علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ اس علاقے میں پھنسے سینکڑوں شہریوں کی وجہ سے جہادیوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جا رہی تھی، تاہم رفتہ رفتہ عام شہری اس علاقے سے نکلتے چلے گئے۔ کچھ روز قبل سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے اعلان کیا تھا کہ باغوز کے خلاف ’فیصلہ کن معرکہ‘ شروع کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ روز کرد قیادت میں شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ایک ترجمان مصطفیٰ بالی نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا، ’’باغوز آزاد ہے اور داعش کے خلاف عسکری فتح کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی ابوبکر البغدادی کی سربراہی میں قائم ہونے والی اس خودساختہ ’خلافت‘ کا بھی اختتام ہوا، جس کے تحت اس شدت پسند گروہ نے شامی مشرقی علاقوں کے علاوہ عراق کے شمال میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر کے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا اعلان کر دیا تھا۔

عراق میں پہلے ہی تمام علاقے اس جہادی گروہ سے آزاد کرائے جا چکے ہیں۔ تاہم اب تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا ابوبکر البغدادی زندہ ہے یا مارا جا چکا ہے۔