آسٹریلیا میں شدید طوفان سے بڑے پیمانے پر تباہی، 70 ہزار سے زائد گھروں کی بجلی منقطع
مغربی آسٹریلیا میں شدید طوفان اور تیز ہواؤں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ 70 ہزار سے زائد صارفین کی بجلی منقطع ہو گئی جبکہ سیکڑوں مقامات پر عمارتوں، چھتوں اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا

مغربی آسٹریلیا میں ویک اینڈ پر آنے والے شدید طوفانوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں ہزاروں گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی اور متعدد علاقوں میں املاک، عمارتوں اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق پیر کی صبح تک تقریباً 70 ہزار صارفین بجلی سے محروم تھے، جن میں ریاستی راجدھانی پرتھ کے رہائشی بھی شامل ہیں۔
بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ویسٹرن پاور نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کے دوران ریاست کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں تیز ہواؤں اور خراب موسمی حالات کے باعث بجلی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی۔ کئی مقامات پر ہوا کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی، جبکہ بعض ساحلی علاقوں میں اس سے بھی زیادہ شدت ریکارڈ کی گئی۔
خراب موسم تقریباً 24 گھنٹے تک جاری رہا، جس کے دوران متعدد علاقوں میں درخت اکھڑ گئے، بجلی کے کھمبے اور تاریں گر گئیں اور نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ریاستی ایمرجنسی سروس کے مطابق پیر کی صبح تک امداد اور مدد کے لیے تقریباً 700 کالیں موصول ہوئیں۔ ان میں زیادہ تر شکایات گھروں کی چھتوں کو پہنچنے والے نقصان، عمارتوں کے متاثر ہونے اور درخت گرنے سے متعلق تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ محکمہ آتش نشانی اور ہنگامی خدمات کے مطابق پرتھ کے ساحلی علاقے کاٹسلو میں ایک رہائشی عمارت کی چھت شدید ہواؤں کے باعث اڑ گئی۔ اس واقعے کے بعد قریبی رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت دی گئی۔
اس دوران ایک خوش آئند خبر بھی سامنے آئی۔ پرتھ کے مغربی مضافات سے ہفتہ کی شام لاپتا ہونے والا 11 سالہ لڑکا اتوار کی صبح بحفاظت مل گیا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ بچے کو صحیح سلامت تلاش کر لیا گیا ہے۔ موسمی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کیپ نیچرلسٹ کے علاقے میں ہوا کا ایک جھونکا 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ گیا۔ بعض مقامات پر ہواؤں کی شدت کو گردابی طوفان جیسی قرار دیا گیا۔
ویسٹرن پاور کے مطابق ریاست بھر میں بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ اس وقت نیٹ ورک میں تقریباً 1300 مختلف خرابیاں اور متاثرہ مقامات موجود ہیں، جس کی وجہ سے بحالی کا عمل ایک بڑا اور پیچیدہ چیلنج بن گیا ہے۔ کمپنی کے آپریشنل مینٹیننس سربراہ بریٹ ہوونگ نے کہا کہ صورتحال معمولی نہیں اور عملہ مسلسل کام کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ علاقوں میں جلد از جلد بجلی بحال کی جا سکے۔
پرتھ اور ریاست کے جنوبی و مغربی ساحلی علاقوں میں سڑکوں پر گرے ہوئے درخت، بجلی کی تاریں اور دیگر ملبہ ٹریفک کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ متعلقہ اداروں نے شہریوں اور گاڑی چلانے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور انتہائی احتیاط کے ساتھ نقل و حرکت کریں۔ ویسٹرن پاور کا اندازہ ہے کہ زیادہ تر متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی پیر کی شام یا رات تک بحال کر دی جائے گی، تاہم بعض مقامات پر مرمتی کام مزید وقت لے سکتا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
