ٹرمپ کی سیکورٹی میں بڑی لاپرواہی، صحافیوں کے ساتھ ڈنر کے دوران فائرنگ سے گونج اُٹھا ہوٹل

سالانہ تقریب میں صدر ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔ وہیں تقریب میں سینکڑوں مشہور صحافیوں، سلیبریٹس اور دوسرے لوگ پہنچے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سیکورٹی میں بڑی لاپرواہی سامنے آئی ہے۔ ہفتہ کی رات واشنگٹن کا ہلٹن ہوٹل اس وقت گولیوں کی آواز سے گونج اُٹھا جب صدر ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافیوں کے اعزاز میں سالانہ ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب میں ٹرمپ خود اسٹیج پر موجود تھے۔ اس دوران تابڑ توڑ فائرنگ کے بعد سیکورٹی میں بڑی لاپرواہی نے کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔

اس سالانہ تقریب میں صدر ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔ وہیں تقریب میں سینکڑوں مشہور صحافیوں، سلیبریٹس اور دوسرے لوگ پہنچے تھے۔ فائرنگ کے بعد تمام اہم رہنماؤں کو فوری طور پر وہاں سے باہر نکال کر پورے ہوٹل کو خالی کرا لیا گیا۔ اس دوران ایک سیکورٹی اہلکار نے تصدیق کی کہ ایک حملہ آور نے گولیاں چلائیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ تقریباً 5 سے 8 گولیوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ’آج تک‘ کے مطابق ایک پولیس افسر نے بتایا کہ حملہ آور کوگرفتار کر لیا گیا۔


امریکی صدر کی موجودگی میں اچانک گولی چلنے سے تقریب میں افراتفری مچ گئی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے اسٹیج کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بچاتے ہوئے جائے واردات سے باہر نکالا گیا۔ اس دوران حکام نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ پوری طرح محفوظ ہیں۔ وہیں ’امراُجالا‘ کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی، ہال میں موجود سینکڑوں صحافی اور مشہور شخصیات اپنی جان بچانے کے لیے میزوں کے نیچے چھپ گئے۔ سیکرٹ سروس کے اہلکار لوگوں کو ہٹنے اور نیچے جھکنے کے لیے چلارہے تھے۔ سیکورٹی اداروں نے پورے بینکوئٹ ہال کو گھیرے میں لے لیا۔ امریکی نیشنل گارڈ کے دستوں نے بھی ہوٹل کے اندر مورچہ سنبھال لیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس تقریب سے خطاب کرنے والے تھے اور سینئر رہنماؤں کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے تاہم اس سے تھوڑی دیر قبل ایک اہلکار ان کے پاس ایک پرچی لایا، جس پر ساتھ بیٹھی خاتون شدید خوفزدہ اور حیران دکھائی دی اس کے چند منٹ بعد ہی تقریب میں گولیوں کی گونج سے افراتفری مچ گئی اور صدر کو باہر نکالا گیا۔ فائرنگ کے بعد مچی افراتفری کے دوران وہاں موجود لوگوں کو ہوٹل سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی لیکن کسی کو اندر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ حملہ آور کی شناخت اور اس نے ایسا کیوں کیا اس کی تفتیش جاری ہے۔ بعدازاں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔


فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا ہے کہ پورا معاملہ کیا ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ کوئی حملہ آور تھا، تاہم مزید تفصیل دستیاب نہیں ہو سکی۔ وہیں سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ تمام رہنماؤں اور افسران کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد عمارت کے قریب ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی دکھائی دیں۔

بتایا جاتا ہے وائٹ ہاؤس کو پورے سال کور کرنے والے امریکہ کے سینئر صحافیوں کے ساتھ صدر ٹرمپ کی جانب سے سالانہ ڈنر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں صدر،نائب صدر اور وزیردفاع کے ساتھ صحافیوں اور دیگر معززین سمیت تقریباً 2600 افراد تقریب میں موجودتھے۔ اب سوال یہ کیا جارہا ہے کہ صدر کی عدیم المثال سیکورٹی کے باوجود حملہ آور اسلحہ کے ساتھ تقریب میں پہنچنے میں کیسے کامیاب ہو گئے؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔