وہائٹ ہاؤس میں تیار ہو رہا خفیہ بنکر، تقریباً 3300 کروڑ روپے میں مکمل ہوگا پروجیکٹ!

اس پروجیکٹ کے لیے وہائٹ ہاؤس کا قدیم ایسٹ وِنگ منہدم کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے شاندار بال روم ہوگا، جس میں تقریباً 1000 لوگ ایک ساتھ بیٹھ سکیں گے۔

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

وہائٹ ہاؤس کے نیچے بن رہے نئے بنکر سے متعلق ایک اہم انکشاف ہوا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہائٹ ہاؤس میں بننے والا نیا 90 ہزار اسکوائر فیٹ کا بال روم صرف تقاریب منعقد کرنے کے لیے نہیں ہوگا، بلکہ اس کے نیچے ایک بڑا اور جدید فوجی بنکر بھی بنایا جا رہا ہے۔ یہ پورا پروجیکٹ تقریباً 400 ملین ڈالر (تقریباً 3300 کروڑ روپے) کا ہے۔ اسے پرائیویٹ کمپنیوں کے پیسوں سے بنایا جا رہا ہے۔

اس پروجیکٹ کے لیے وہائٹ ہاؤس کا قدیم ایسٹ ونگ منہدم کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے شاندار بال روم ہوگا، جس میں تقریباً 1000 لوگ ایک ساتھ بیٹھ سکیں گے۔ اس پروجیکٹ کی سب سے خاص بات اس کا انڈرگراؤنڈ بنکر ہے۔ ٹرمپ کے مطابق بال روم کے نیچے ایک بہت بڑا ملٹری کمپلیکس بنایا جا رہا ہے۔ یہ بلیٹ پروف گلاس، ڈرون حملوں سے دفاع کی تکنیک اور ایڈوانس سیکورٹی سسٹم سے مزین ہوگا۔ سیکورٹی وجوہات سے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس بنکر میں ایک ساتھ کتنے لوگ رہ سکتے ہیں۔


یہ نیا بنکر پرانے وہائٹ ہاؤس بنکر سے الگ اور زیادہ جدید مانا جا رہا ہے۔ پہلے بھی ایسٹ وِنگ کے نیچے ایمرجنسی کے لیے محفوظ کمرے موجود تھے، لیکن نیا بنکر اس سے بڑا اور زیادہ ہائی ٹیک ہوگا۔ اس میں فوج کی مدد بھی لی جا رہی ہے تاکہ یہ جگہ صرف چھپنے کی نہیں، بلکہ اسٹریٹجک کاموں کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر کو کئی سطح کی سیکورٹی ملی ہوتی ہے۔ کسی چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر بھی فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ اس کی مثال 29 مارچ کو ہی دیکھنے کو ملی تھی، جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سیکورٹی میں بڑی چوک ہو گئی تھی۔ ایک شہری طیارہ نے امریکی صدر کے طیارہ ’ایئرفورس وَن‘ کے قریب پرواز سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کی تھی، جس کے بعد افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ فوراً ایف-16 جنگی طیاروں کو سیکورٹی کے لیے بھیجا گیا اور فلیئرس کا استعمال کیا گیا۔


’نیویارک پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق واقعہ اتوار کو فلوریڈا کے پام بیچ بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کے سبب افسران نے ہوائی اڈے پر طیاروں کی آمد و رفت روک دی اور نارتھ امریکن ایئرواسپیس ڈیفنس کمانڈ کے طیاروں کو فوراً روانہ کر شہری طیاروں کو روک لیا گیا۔ حالانکہ وہائٹ ہاؤس نے بتایا کہ نہ تو ایئرفورس وَن اور نہ ہی صدر ٹرمپ کو خطرہ تھا۔

نوراڈ (این او آر اے ڈی) کے ذریعہ جاری بیان کے مطابق ایف-16 جنگی طیاروں نے 29 مارچ کو دوپہر تقریباً 1.15 بجے پام بیچ کے اوپر طیارہ کو روکا۔ شہری طیارہ نے اس علاقہ میں نافذ عارضی پرواز سے متعلق پابندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس کے بعد شہری طیارہ کو فوراً ممنوعہ علاقہ سے بہ حفاظت باہر نکالا گیا۔ اس دوران جنگی طیارہ کے پائلٹ نے شہری طیارہ کو اشارہ دینے اور ہدایت دینے کے لیے فلیئرس کا استعمال کیا۔


وہائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے واقعہ کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ایک شہری طیارہ پام بیچ بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر ہوائی کنٹرول ٹاور سے کچھ وقت کے لیے رابطہ سے باہر ہو گیا تھا، لیکن بالآخر رابطہ قائم ہو گیا اور طیارہ کی لینڈنگ کو روک دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈرون کی دراندازی نہیں ہوئی اور امریکی صدر کے طیارہ ایئرفورس وَن سے متعلق کوئی فکر والی بات نہیں ہے۔