امریکہ: صدر ٹرمپ کا شرکت سے انکار، دوسرا صدارتی مباحثہ منسوخ

امریکہ میں صدارتی محابثہ سے متعلق کمیشن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ورچوئل ڈبیٹ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن کے مابین اگلے ہفتہ ہونے والا محابثہ منسوخ کر دیا گیا

صدارتی بحث کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن / Getty Images
صدارتی بحث کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: امریکہ میں 15 اکتوبر کو مجوزہ صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ اب نہیں ہوگا کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بحث میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ اطلاع صدارتی مباحثہ کرانے والے کمیشن نے دی ہے۔ کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ 15 اکتوبر کو کوئی صدارتی مباحثہ نہیں ہوگا اور تمام امیدواروں نے اس دن کے اپنے منصوبوں کے بارے میں کمیشن کو مطلع کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ امیدواروں کے درمیان آخری صدارتی مباحثہ 22 اکتوبر کو نیش وِلے، ٹینسی میں ہوگا۔

واضح رہے صدر ٹرمپ نے اس مباحثہ کو وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔ پہلے مباحثہ کے بعد صدر ٹرمپ کورونا پازیٹو ہو گئے تھے جس کی وجہ سے کمیشن نے پہلے دوسرے مباحثہ کی تاریخ آگے بڑھانے کی تجویز پیش کی تھی اور بعد میں انہوں نے اس مباحثہ کو ورچوئل کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن صدر ٹرمپ نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ سب کی صحت اور حفاظت کی غرض سے کیا گیا ہے۔ تاہم ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر مباحثے سے فرار چاہتے ہیں۔

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوارجو بائیڈن نے صحافیوں سے کہا، ’’ہم نہیں جانتے کہ صدر کیا کرنے جا رہے ہیں، کیونکہ وہ ہر لمحے اپنا ذہن تبدیل کرتے رہتے ہیں اس لئے اس موقع پر میری طرف سے کوئی بات کرنا غیر ذمہ دارانہ ہو گا۔ میں کمیشن کی ہدایت پر عمل کروں گا۔‘‘

بائیڈن کے ترجمان اینڈریو بیٹس نے کہا، ‘‘یہ شرمناک ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واحد ایسی بحث کو ناکام کر دیا جس میں ووٹر اپنے سوال پوچھتے ہیں۔ لیکن کوئی حیرت کی بات نہیں، ٹرمپ میں رائے دہندگان کو جواب دینے کی ہمت نہیں ہے۔‘‘

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اور جو بائڈن کے مابین پہلا مباحثہ 30 ستمبر کو ہوا تھا اور اس مباحثہ کو سیاسی مبصرین امریکی تاریخ کا سب سے خراب مباحثہ قرار دے رہے ہیں۔ اس مباحثہ میں صدر ٹرمپ نے تمام ضابطوں کو طاق پر رکھ کر اپنے حریف کو بولنے نہیں دیا تھا اور مباحثہ کا معیار کافی گرا دیا تھا۔ اس مباحثہ کے بعد ایسے مباحثوں کی افادیت پر سوال کھڑے ہو گئے تھے۔

پہلے مباحثہ کے بعد صدر ٹرمپ نے خود اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا اور کہا کہ دوسرے مباحثہ کا نتیجہ بھی یہی رہنے والا ہے۔ اب انہوں نے کہا ہے کہ ’’کمیشن نے مباحثہ کے ضابطوں میں تبدیلی کر دی ہے اور یہ تبدیلی ہمیں قبول نہیں ہے۔ میں نے بائیڈن کو پہلے مباحثہ میں با آسانی ہرا دیا تھا ۔‘‘ ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ کمیشن بائیڈن کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس درمیان صدر ٹرمپ کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی عوامی زندگی میں واپس لوٹ سکتے ہیں کیونکہ اب وہ بالکل صحت مند ہیں۔ گزشتہ ہفتہ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ دونوں کورونا پازیٹو پائے گئے تھے جس کے بعد ٹرمپ کو اسپتال میں علاج کے لئےداخل کرایا گیا تھا ۔ 72 گھنٹوں کے علاج کے بعد صدر ٹرمپ واپس وائٹ ہاؤس آ گئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔