سعودی عرب نہیں مانتا کہ حملہ ایران نے کیا: جواد ظریف

جواد نے کہا کہ سعودی نے یمن میں حدیدہ کے خلاف جوابی کارروائی کرکے اقوام متحدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کارروائی کا مطلب صاف ہے کہ وہ خود ان حملوں میں ایران کے ہاتھ ہونے کو نہیں مانتا ہے۔

تصویر ڈی ڈبلیو
تصویر ڈی ڈبلیو

یو این آئی

تہران: ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ہفتہ کو کہا کہ سعودی عرب خود نہیں مانتا ہے کہ اس کے تیل تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں میں تہران کا ہاتھ ہے۔

جواد ظرریف نے ٹوئٹ کر کے کہا ’’سعودی عرب کے ایران پر الزام بے بنیاد ہیں۔ سعودی عرب نے آج یمن میں حدیدہ کے خلاف جوابی کارروائی کرکے اقوام متحدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کارروائی کا مطلب صاف ہے کہ وہ خود ان حملوں میں ایران کے ہاتھ ہونے کی خبروں کو نہیں مانتا ہے‘‘۔

اس کے علاوہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر 14 ستمبر کو ہوئے حملہ کے بعد سعودی قیادت والی فوجی اتحاد نے جمعہ کو یمن کے شمالی علاقے میں صوبہ حدیدہ میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔

قابل غور ہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب کی دو پٹرولیم کمپنیوں پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا۔ سعودی عرب دراصل حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں یمن کو فضائی حدود میں مدد مہیا کرا رہا ہے جس کی وجہ سے شروع میں سمجھا جا رہا تھا کی یہ حملہ حوثی باغیوں نے کیا ہے۔ تاہم امریکہ مسلسل اس حملہ کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کی بات کہہ رہا ہے۔ وہیں ایران نے امریکہ کے تمام الزامات کی تردید کر تے ہوئے حملے میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔